نومبر 1, 2026

حکومت نے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی

0
floor-price

گندم کی قیمتوں میں اضافے اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان شہریوں کے لیے حکومت کی جانب سے اہم اعلان سامنے آ گیا ہے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند روز میں گندم کی قیمتیں معمول پر آنا شروع ہو جائیں گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق گندم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ حقیقی قلت کے بجائے مصنوعی مہنگائی اور بعض عناصر کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور رواں سال قلت پیدا ہونے کا کوئی خدشہ نہیں۔

رانا تنویر حسین نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے تمام صوبوں کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے گندم کی قیمت 4 ہزار 500 روپے فی من مقرر کی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 40 سال بعد ایک جامع قومی گندم پالیسی تیار کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد کسانوں کے مفادات کا تحفظ اور گندم کی منڈی میں استحکام لانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت رواں سال گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت کی ترجیح درآمدی گندم کے بجائے مقامی کسانوں سے گندم خریدنا ہے تاکہ ملکی زرعی شعبے کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاسکو کے ذخائر سے صوبوں کو اب تک 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کی جا چکی ہے۔ ضرورت پڑنے پر صوبوں کی طلب پوری کرنے کے لیے ساڑھے پانچ لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے انتظامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں گندم کے مناسب ذخائر اور سپلائی کے انتظامات موجود ہیں، اس لیے عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تاہم، گندم کی قیمتوں میں استحکام اور آٹے کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کا انحصار آئندہ دنوں میں مارکیٹ کی صورتحال پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے