اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا، جس کے بعد پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا ہے۔ شرح سود میں اضافے کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرح سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا۔
مرکزی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کی شدت اور عالمی منڈی میں توانائی کی بلند قیمتوں نے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کردیا ہے۔ ان حالات میں افراطِ زر کی توقعات کو قابو میں رکھنے اور مہنگائی کے ثانوی اثرات کو روکنے کے لیے شرح سود میں اضافہ ضروری تھا، تاکہ مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے مقررہ ہدف کے اندر لایا جاسکے۔
مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد تک پہنچ گئی
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ عالمی حالات کے باعث مہنگائی کا منظرنامہ گزشتہ جائزے کے مقابلے میں مزید تشویش ناک ہوگیا ہے۔ ستمبر کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) تقریباً 8.4 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رہی۔
ان کے مطابق توانائی کے نرخوں میں غیر متوقع تبدیلیوں اور گندم سمیت اس سے تیار ہونے والی اشیا کی بلند قیمتوں نے مہنگائی میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان عوامل کے باعث آئندہ بھی مہنگائی کا دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
اسٹیٹ بینک نے مشرق وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگ، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں سمیت ایل نینو (El Niño) کی شدت کو ملکی معیشت اور مہنگائی کے لیے اہم خطرات قرار دیا ہے۔
معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ برقرار
اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد برقرار رکھا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
جولائی اور اگست کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ریکارڈ کیے گئے 0.4 فیصد اضافے کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
سیمنٹ اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں اضافے کے ساتھ خریف کی فصلوں کے ابتدائی تخمینے بھی توقعات سے بہتر رہے، جس سے زرعی شعبے کے امکانات میں بہتری آئی ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر کے قریب
مرکزی بینک کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم ہیں، جو ملک کی تین ماہ کی درآمدی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
تاہم، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
زرِ وسیع اور نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 9 اکتوبر تک زرِ وسیع (Broad Money) کی سالانہ شرح نمو بڑھ کر 12.7 فیصد ہوگئی، جو 28 اگست کو 11.4 فیصد تھی۔
اسی طرح نجی شعبے کے قرضوں میں سالانہ بنیاد پر 14.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان قرضوں میں ورکنگ کیپیٹل، نئی سرمایہ کاری اور صارفین کے لیے مالی معاونت شامل ہے۔
قرض حاصل کرنے والے نمایاں شعبوں میں ٹیکسٹائل، ہول سیل و ریٹیل تجارت اور زراعت شامل ہیں، جنہوں نے نجی شعبے سے سب سے زیادہ قرضے حاصل کیے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ نجی شعبے کے قرضوں کی طلب میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
