سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن اور سینیٹ سیکرٹریٹ ایمپلائز ویلفیئر فنڈ کی ذیلی کمیٹی کی رکن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیرِ صدارت اجلاس میں شرکت کی
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن اور سینیٹ سیکرٹریٹ ایمپلائز ویلفیئر فنڈ کی ذیلی کمیٹی کی رکن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیرِ صدارت اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں سینیٹ سیکرٹریٹ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے طبی سہولیات کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہر ملازم کو معیاری طبی سہولیات باعزت طریقے سے دستیاب ہوں اور انہیں علاج معالجے کے لیے غیر ضروری مالی بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ موجودہ ہیلتھ بجٹ کے مؤثر استعمال، معروف اسپتالوں میں او پی ڈی سمیت علاج اور اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاری رہنے والے علاج کی سہولت فراہم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
کمیٹی نے معروف نجی اسپتالوں کو پینل پر شامل کرنے اور معتبر انشورنس کمپنیوں کے ذریعے جامع ہیلتھ انشورنس پیکیج متعارف کرانے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف، جوبلی لائف، الفلاح انشورنس اور آدم جی انشورنس کے مختلف پیکیجز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر مزید غور کیا جائے گا اور ملازمین کے لیے جامع ہیلتھ کیئر پیکیجز اور ان کے عملی نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ کمیٹی نے سندھ پولیس اور سندھ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو اسٹیٹ لائف کی جانب سے فراہم کیے جانے والے موجودہ ہیلتھ پیکیجز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں تاکہ سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے موزوں پیکیج کا انتخاب کیا جاسکے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو معیاری، آسان اور پائیدار طبی سہولیات فراہم کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے، جسے عزم، خلوص اور ملازمین کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے پورا کیا جانا چاہیے
