کرپشن پر سابق حکومتی عہدیدار کو سزائے موت
چین کی عدالت کی جانب سے بدعنوانی کے بڑے مقدمے میں سابق سرکاری عہدیدار کو سزائے موت سنائے جانے کا منظر
بیجنگ (7 جولائی 2026):
چین کی ایک عدالت نے بدعنوانی کے ایک بڑے مقدمے میں سابق اقتصادی ترقیاتی عہدیدار یانگ یولین کو 350 ملین ڈالرز سے زائد رشوت وصول کرنے کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ یانگ یولین نے تقریباً 30 برس کے دوران مختلف سرکاری منصوبوں، کاروباری سہولتوں، زمین کی الاٹمنٹ اور سرمایہ کاری کی منظوری کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی اثاثے حاصل کیے۔
عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ ملزم 1993 سے 2023 کے درمیان رشوت ستانی، سرکاری فنڈز میں خردبرد، عوامی رقوم کے غلط استعمال، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہا۔
عدالت کے مطابق یانگ یولین نے اپنے آخری بیان میں تمام الزامات تسلیم کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کیا، جس کے بعد شواہد اور اعترافِ جرم کی بنیاد پر انہیں سخت ترین سزا سنائی گئی۔
چینی عدالتی نظام میں بدعنوانی کے خلاف یہ فیصلہ ایک مضبوط مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
