اٹلی میں جنگ اور مہنگائی کے خلاف احتجاج، مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے
میلان: اٹلی میں جنگ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات کے باوجود متعدد شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ حکام نے مظاہروں کے دوران ممکنہ بدامنی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، اطالوی پولیس نے ہفتے کے روز ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا، جس پر الزام ہے کہ وہ ’’17 اکتوبر تحریک‘‘ کے تحت ہونے والے مظاہروں کے انتظامات میں مبینہ طور پر شریک تھا۔ زیرِ حراست شخص کو مزید تفتیش کے لیے میلان میں پولیس ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا۔
ملک کے بڑے شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں کا پس منظر گزشتہ ہفتے پیش آنے والی بدامنی ہے، جب احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا، دکانوں میں لوٹ مار کی گئی اور مختلف املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
حالیہ مظاہروں کے دوران تورین، روم اور بولونیا میں کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس کے برعکس میلان میں مظاہرے زیادہ تر پُرامن رہے۔ روئٹرز کے نمائندوں نے ہفتے کے روز کسی دکان میں لوٹ مار یا املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کا مشاہدہ نہیں کیا۔
حکام نے سوشل میڈیا پر مزید احتجاجی مظاہروں کی اپیلوں کے بعد سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے تھے۔ ممکنہ توڑ پھوڑ کے خدشے کے پیشِ نظر مختلف مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی، جبکہ احتیاطی تدبیر کے طور پر متعدد دکانیں بھی بند رکھی گئیں۔
تاہم، ان انتظامات کے باوجود بعض شہروں میں حالات کشیدہ رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے خلاف عوامی بے چینی تاحال برقرار ہے۔
