نومبر 1, 2026

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک ماہ میں دو بار تہران (ایران) جانا مثبت پیشرفت کی علامت ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

0
dg-ispr

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط امید رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ایک ماہ کے دوران دو مرتبہ تہران کے دورے سفارتی سطح پر مثبت پیشرفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اگر ثالثی کے عمل میں کوئی پیشرفت نہ ہو رہی ہوتی تو فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ماہ میں دو بار ایران کا دورہ نہ کرتے۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی کوششوں کو متاثر کرنے والے بعض بااثر عناصر بھی سرگرم ہیں، جو جاری تنازع کو اپنے مفادات کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

ایران کے لیے مکہ دفاعی معاہدے کے دروازے کھلے ہیں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے اور اس کی شقیں کسی نئے ملک کی شمولیت میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی امن اور مشترکہ سلامتی کے وژن پر یقین رکھنے والے ممالک کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ایران بھی اگر اس مشترکہ وژن سے اتفاق کرتا ہے تو معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کسی بھی نئے ملک کو معاہدے کا حصہ بنانے سے متعلق حتمی فیصلہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی سیاسی قیادت کرے گی۔

سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہوگا؟

ترجمان پاک فوج نے سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے کہا کہ اس کا فیصلہ خطے کی صورتحال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات کا تحفظ بھی پاکستان کے دفاعی عزم کا اہم حصہ ہے۔

پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا فریق نہیں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یمن کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع میں شامل نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ یمن کے اندر موجود مختلف فریقوں کے درمیان ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی حکمت عملی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور اسی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے