نومبر 1, 2026

امریکی و اسرائیلی جنگ مغربی ایشیا کے ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ ہے، ایرانی صدر

0
irani-president

**ایروان: ** ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ مغربی ایشیا کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس کے اثرات برسوں بلکہ نسلوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

آرمینیا میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ خطے میں جاری جنگ کے باعث قدرتی ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہوئے ہیں، جبکہ صنعتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور آگ لگنے کے واقعات نے ماحولیاتی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ جنگ کے نتیجے میں آلودہ مادوں کا اخراج ہوا، جس سے زمین اور پانی آلودہ ہوئے۔ ان کے مطابق جنگ کے ماحولیاتی اثرات صرف متاثرہ علاقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ طویل فاصلے تک پھیل سکتے ہیں اور ان کے منفی نتائج کئی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے غزہ کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں زمین کے بعض حصے سیکڑوں برس تک زندگی کے لیے ناموزوں رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں ہونے والی تباہی کو جارحانہ جنگوں کے نتیجے میں فطرت اور قدرتی وسائل کو پہنچنے والے نقصان کی واضح مثال قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگوں کے نتیجے میں قدرتی ماحول کی تباہی کی شدید مذمت کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکوسائیڈ (Ecocide) یعنی قدرتی ماحول اور ماحولیاتی نظام کی وسیع پیمانے پر تباہی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر عالمی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے