اگست 29, 2026

آئین پاکستان کو تسلیم کرنے والوں سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں،وزیرداخلہ بلوچستان

0
meer-zia-langove

کوئٹہ: وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچ اور پشتون قوم پرست رہنماؤں کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی نہیں، جبکہ محمود خان اچکزئی اور سردار اختر مینگل ملک و عوام کے بجائے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔

ایک بیان میں میر ضیاء اللہ لانگو نے سوال اٹھایا کہ کیا سردار اختر مینگل نے پنجابی پاکستانی کے قتل کی مذمت کی ہے؟ انہوں نے محمود خان اچکزئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گاڑی پر پاکستان کا جھنڈا لگاتے ہیں لیکن باتیں افغانستان کی کرتے ہیں۔ ان کے بقول اچکزئی کی پہلی ترجیح افغانستان اور دوسری پاکستان ہے، جبکہ ان کا یہ مؤقف کہ ’’وطن افغانستان اور ملک پاکستان ہے‘‘ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’ہمارا ملک بھی پاکستان ہے اور وطن بھی پاکستان ہے۔‘‘

میر ضیاء اللہ لانگو نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ دہشت گردوں نے پسماندہ علاقوں کی ایمبولینسز تک چرا لی ہیں اور عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے کمانڈرز بلوچستان میں جاری بدامنی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور چند کمانڈرز نے مبینہ طور پر بیرونی مالی معاونت کے ذریعے دہشت گردی کو کاروبار بنا رکھا ہے۔

وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد کمانڈرز نوجوانوں اور خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت پر بھی دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ آئین پاکستان کو تسلیم کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو گمراہ کن بیانیے سے بچانے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ عسکری پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا بلوچ روایات اور اقدار سے کوئی تعلق نہیں۔

اپنے اوپر مبینہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ان پر ناکام حملہ کیا گیا، تاہم اگر سامنے سے وار کیا جائے تو جواب دینا بھی جانتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں پر تنقید کرتے ہوئے میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ یہ تنظیمیں اب انسانی حقوق کے بجائے ریٹنگ کے چکر میں پڑ گئی ہیں۔ ان کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز، مزدوروں اور نہتے شہریوں پر ہونے والے حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے