ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا
حب : ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع حب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ، چائلڈ لیبر کے خاتمے، اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، بچوں سے بدسلوکی، غذائی قلت، منشیات اور دیگر سماجی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بچوں کو درپیش مسائل، چائلڈ پروٹیکشن کے موجودہ نظام اور مختلف اداروں کے مابین رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جمعہ داد خان مندوخیل نے کہا کہ بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بچوں کو تعلیم، صحت، محفوظ ماحول اور بہتر مستقبل کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تشدد، استحصال، جبری مشقت یا زیادتی ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع حب میں چائلڈ لیبر، جسمانی و ذہنی تشدد، جنسی زیادتی، منشیات، کم عمری کی شادی، غذائی قلت اور اسکول سے باہر بچوں جیسے مسائل کے تدارک کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی والدین یا سرپرست کی جانب سے بچے کے ساتھ تشدد، جنسی زیادتی، استحصال، اغوا، جبری مشقت یا کسی بھی سنگین جرم کی شکایت رپورٹ کی جائے تو متعلقہ پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرے اور بلا تاخیر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بچوں سے متعلق مقدمات میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں ضلع حب کے مختلف علاقوں میں بچوں کے محنت مزدوری کرنے کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے بتایا کہ بعض بچےورکشاپس، گیراجوں، صنعتی و تجارتی مراکز، ماہی گیری سے متعلق مقامات اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں، جبکہ بعض یتیم اور مستحق بچے معاشی مشکلات کے باعث تعلیم کے بجائے محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی اور سروے کا نظام وضع کیا جائے، محنت مزدوری میں مصروف بچوں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے والدین اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جائیں۔
