پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ماتلی کی جانب سے سریوال ہاؤس میں اجلاس
ماتلی : ماتلی کے نواحی گاؤں حاجی راہو ہالیپوٹو کے رہائشی ہاشم ہالیپوٹو کے سانپ کے ڈسنے سے جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد ورثاء اور تعلقہ اسپتال ماتلی کی انتظامیہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے معاملے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ماتلی کی جانب سے سریوال ہاؤس میں اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں ماتلی کے ڈاکٹرز، ڈاکٹرنیوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں ماتلی کے ڈاکٹرز، ڈاکٹرنیوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ماتلی کے عہدیداران ڈاکٹر عبدالمالک شیخ، ڈاکٹر لیاقت علی قمبرانی، ڈاکٹر مشتاق نظامانی، ڈاکٹر راجا اڈیجو، ڈاکٹر آفتاب اعوان اور دیگر نے صحافیوں کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ 7 اگست کو گاؤں حاجی راہو ہالیپوٹو کے رہائشی ہاشم ہالیپوٹو کو سانپ کے ڈسنے کے باعث تعلقہ اسپتال ماتلی لایا گیا جہاں اسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی عملے نے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مریض کا فوری طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کرائے۔انہوں نے بتایا کہ طبی معائنے کے دوران مریض کو مبینہ طور پر کالے سانپ کے ڈسنے کی تشخیص ہوئی جس کے بعد اسے ضروری طبی امداد فراہم کی گئی اور مزید علاج کے لیے سول اسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیا تاہم مریض راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ مریض کے جاں بحق ہونے پر انہیں بھی دلی افسوس ہے اور ڈاکٹر کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے زیر علاج مریض کی جان چلی جائے۔پی ایم اے عہدیداران کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد بعض افراد کی جانب سے تعلقہ اسپتال ماتلی کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں پر مختلف الزامات عائد کیے گئے اور سوشل میڈیا پر اسپتال کے خلاف تنقید کی گئی جس سے ڈاکٹروں اور طبی عملے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی واقعے کے اصل حقائق تحقیقات کے ذریعے سامنے آنے چاہئیں اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل ڈاکٹروں یا اسپتال انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کی ڈپٹی کمشنر بدین کی جانب سے انکوائری بھی کرائی گئی ہے اور انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی تمام حقائق واضح ہوسکیں گے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ طبی شعبے سے وابستہ افراد انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اس لیے انہیں کام کرنے کے لیے پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ اگر ڈاکٹروں کے ساتھ بدسلوکی، دھمکیوں یا بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو ڈاکٹر آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے میں مشکلات کا شکار ہوں گے۔پی ایم اے عہدیداران نے کہا کہ ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے یا دباؤ میں لانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں علاقے کے عوام کو علاج معالجے کی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں قانونی اور انتظامی طریقہ اختیار کیا جائے اور سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق الزامات لگانے سے گریز کیا جائے۔
