ضلع ہرنائی میں کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد ہو گئے
ہرنائی:ضلع ہرنائی میں کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد ہو گئے۔ آریانہ فٹبال کلب ہرنائی کے زیر اہتمام منعقدہ "چیئرمین سید عطاء اللہ شاہ فور ڈسٹرکٹ ٹورنامنٹ” کے سلسلے میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ فٹبال میچ کھیلا گیا، جس میں شائقینِ کھیل کو بہترین اور جاندار مقابلہ دیکھنے کو ملا۔اس پروقار اور پرجوش میچ کے مہمانِ خصوصی ضلع ہرنائی کے ہر دلعزیز ڈپٹی کمشنر میر ارشد حسین جمالی تھے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ اسرار احمد شاہوانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی آمد پر آرگنائزرز اور کھلاڑیوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔میچ کا فائنل و سنسنی خیز مقابلہ بلوچ کاروان فٹبال کلب اور لورالائی فٹبال کلب کی مضبوط ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔ مقررہ وقت کے اختتام تک دونوں ٹیموں کی جانب سے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا گیا اور میچ برابر رہا۔ بالآخر فیصلے کے لیے پینلٹی ککس کا سہارا لیا گیا، جس میں لورالائی فٹبال کلب نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کرتے ہوئے میچ اپنے نام کر لیا۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی میر ارشد حسین جمالی نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور کھیلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا جن معاشروں میں کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں، وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں اور نوجوان منشیات جیسے قبیح اور مہلک رجحانات سے محفوظ رہتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کو مثبت و صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اس نوعیت کے کھیلوں کے مقابلوں کا مسلسل انعقاد انتہائی ضروری ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کھیل کے فروغ اور ایونٹ کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے ٹورنامنٹ کمیٹی کے لیے 20 ہزار روپے نقد بطور مالی تعاون دینے کا اعلان بھی کیا ٹورنامنٹ کمیٹی اور آریانہ فٹبال کلب کے عہدیداران نے ڈپٹی کمشنر میر ارشد حسین جمالی اور اسسٹنٹ کمشنر اسرار احمد شاہوانی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افسران کا اپنی تمام تر مصروفیت کے باوجود وقت نکال کر نوجوانوں کے درمیان پہنچنا اور ان کی مالی و اخلاقی معاونت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ضلعی انتظامیہ کھیلوں کی سرپرستی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے کوشاں ہے۔ کمیٹی نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ آئندہ بھی علاقے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔
