اکتوبر 6, 2026

سانپ کے ڈسنے سے نوجوان کی ہلاکت، اسسٹنٹ کمشنر ماتلی کی 5 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ ڈپٹی کمشنر بدین کو ارسال

0
matli-newsc

ماتلی: تعلقہ اسپتال ماتلی میں سانپ کے ڈسنے سے نوجوان محمد ہاشم ہالیپوٹو کی ہلاکت کے واقعے کی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ماتلی کی جانب سے پانچ صفحات پر مشتمل تفصیلی انکوائری رپورٹ ڈپٹی کمشنر بدین کو ارسال کردی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ اور طبی عملے کی کارکردگی سے متعلق متعدد اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں تاہم انکوائری رپورٹ میں اینٹی اسنیک وینم (ASV) نہ لگائے جانے کا الزام حتمی طور پر ثابت نہیں ہوسکا۔انکوائری رپورٹ کے مطابق محمد ہاشم کو 7 اگست کو مشتبہ سانپ کے ڈسنے کے بعد تعلقہ اسپتال ماتلی لایا گیا جہاں سے بعدازاں اسے ایل یو ایچ حیدرآباد ریفر کیا گیا تاہم راستے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ ڈاکٹروں کے بیانات کے مطابق مریض کو دو شیشیاں اینٹی اسنیک وینم دیے جانے کا دعوی کیا گیا جبکہ مریض کے ورثا نے اس حوالے سے شکوک کا اظہار کیا۔ انکوائری افسر کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں ASV لگانے کا عمل براہ راست نظر نہیں آتا اس لیے اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔انکوائری رپورٹ میں مریض کے ورثا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسپتال عملے کی جانب سے مریض کی حالت کو ابتدائی طور پر مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور ورثا کی جانب سے بار بار توجہ دینے اور فوری ریفر کرنے کی درخواستیں کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ ڈاکٹروں کی جانب سے ان الزامات کا تسلی بخش جواب سامنے نہیں آیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مریض تقریبا 1 بج کر 27 منٹ پر اسپتال پہنچا اور اس وقت اپنے بھائی کے سہارے چل رہا تھا جبکہ ریفر کیے جانے کے وقت اسے اسٹریچر پر منتقل کرنا پڑا جس سے اس کی حالت میں مختصر وقت کے دوران نمایاں بگاڑ ظاہر ہوتا ہے۔ انکوائری افسر نے بروقت طبی مداخلت اور ریفرل کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔انکوائری میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ایمرجنسی میں دیگر میڈیکل افسران بھی موجود تھے تاہم ایسا کوئی اطمینان بخش ریکارڈ سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ مریض کی حالت خراب ہونے پر ان سے طبی مشاورت کی گئی۔ایمبولینس کے حوالے سے بھی رپورٹ میں اہم خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایمبولینس ڈرائیور کے مطابق مریض کے ساتھ اسپتال کا کوئی طبی یا ٹیکنیکل عملہ موجود نہیں تھا جبکہ ایمبولینس میں آکسیجن کے علاوہ دیگر اہم ہنگامی طبی سہولیات یا آلات موجود نہیں تھے۔ انکوائری افسر نے اسے قابل توجہ کمی قرار دیا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مریض کے لواحقین کو مبینہ طور پر فراہم کیے جانے والے علاج خصوصا ASV کے استعمال کے بارے میں مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ دو شیشیوں ASV کی مقدار مریض کی طبی حالت کے اعتبار سے کافی تھی یا نہیں اس کا تعین بھی انکوائری رپورٹ میں نہیں کیا گیا اور اس کے لیے ماہر طبی رائے لینے کی سفارش کی گئی ہے۔انکوائری رپورٹ کے مطابق موجودہ شواہد کی بنیاد پر ASV نہ لگائے جانے کا الزام نہ تو حتمی طور پر ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر مسترد کیا جاسکتا ہے تاہم اسپتال عملے کے مبینہ غیر سنجیدہ رویے، بروقت ریفرل، طبی مشاورت، ایمبولینس میں طبی عملے کی عدم موجودگی اور لواحقین کو مناسب معلومات فراہم نہ کیے جانے سمیت متعدد امور پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔رپورٹ مزید کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو پیش کردی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے