وندر/گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول حاجی چاکر اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول وسڑہ دودا کےدرمیان PCB Talent Hunt Program کا پہلا میچ حسن آباد کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلاگیا
مسلم لیگ ن جام گروپ کے سینئر رہنماء و سابق وائس چیئرمین محمد اسلم سوری کی بطورِ مہمان شرکت کھلاڑیوں کے ساتھ گروپ فوٹو اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتہائی مشکور ہیں اسکولوں کی سطح پر PCB Talent Hunt Program شروع کیا جس سے بچوں کے ذہنوں پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں ان کے درمیان اعصابی مقابلے کا جذبہ پیدا ہوا ہے یہ اقدام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کوشش کرتے ہیں یہ گراؤنڈ پی سی بی ریکوائرمنٹ کے تحت حوالگی یقینی بنائی جاسکے تاکہ یہاں باقاعدہ ایک اسٹیڈیم تیار کیا جاسکے جس سے یہاں کی کرکٹ مزید بہتر ہوگی۔
اس طرح کے مقابلوں سے نہ صرف اسکولوں کے طلبہ میں کرکٹ کے جذبے کو پروان چڑھایا بلکہ نوجوان لڑکوں میں کھیل کے ذریعے ہنر مندی اور ٹیم ورک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔میچ میں گورنمنٹ بوائز حاجی چاکر کی ٹیم نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 357 بظاہر پہاڑ جیسا ہدف دیا جس کے مقابلے میں وسڑہ دودا ٹیم 17 اوورز میں صرف 88 رنز پر پویلین لوٹ گئی فاتح ٹیم نے شاندار مہارت، تحمل، اور کھیل کی سمجھ بوجھ کا نہایت عمدہ مظاہرہ کیا، دوسری جانب، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول وسڑہ دودا کی ٹیم نے پوری کوشش کی تاہم بڑے ٹارگٹ کو عبور کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی اور پوری ٹیم 88 رنز پر آوٹ ہو گئی۔بظاہر یہ ایک بڑے مارجن سے ہار تھی لیکن اس سے بچوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔تقریب میں ہیڈ ماسٹر ہائی اسکول وندر محمد امین دودا، حاجی چاکر سے اللہ بخش دودا، وسڑا دودا بالا سے ظفر جمالی تھے۔ پروگرام کے انتظامات سینئر استاد نور احمد رونجہ اور پرویز علی موندرہ نے سںبھالے۔ جبکہ پی سی بی کا نمائندہ کے نمائندے احمر بھی موجود تھے اسکول اساتذہ نے شاندار پروگرام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میچ نہ صرف کھلاڑیوں کے لئے ایک بہترین تجربہ تھا بلکہ اس سے انہیں خود اعتمادی، نظم و ضبط اور ٹیم ورک کی اہمیت کا درس ملا۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ کھیلوں کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں کیونکہ کھیل صحت مند جسم، مضبوط ذہن اور عمدہ کردار کی بنیاد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اُبھارنے اور ملک میں کھیلوں کے معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان پروگراموں کے ذریعے نہ صرف مختلف علاقوں کے طلبہ کو ایک دوسرے سے ملنے، مقابلہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع ملتا ہے بلکہ یہ نوجوانوں میں یکجہتی، محنت اور کھیل کے جذبے کو بھی فروغ دیتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسکولوں، والدین اور کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کریں تاکہ وہ اپنے خوابوں کو پورا کر سکیں اور ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں میں شرکت نوجوانوں کو کامیابی کی ذہنیت سکھاتی ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لئے ضروری ہے۔آخر میں، انہوں نے PCB کو مبارکباد دی کہ اس نے اسکولوں میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لئے اس قسم کے پروگرام شروع کیے ہیں جو نوجوانوں کے لیے نہ صرف تفریح بلکہ ترقی اور مثبت مستقبل کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے مزید میچز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو کھیلوں کے ذریعے اپنے خواب پورے کرنے کا موقع ملے اور ملک کا کھیلوں میں عالمی سطح پر نام روشن ہو۔یہ میچ پی سی بی کے اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی کامیابی کی مثال ہے جو نوجوان طلبہ میں ہنر مندی کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ انہیں صحت مند اور مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ اس طرح کے پروگرامز نہ صرف کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو سامنے لاتے ہیں بلکہ ملک کی اسپورٹس انڈسٹری کے مستقبل کو بھی مضبوط بناتے ہیں
