100 کلومیٹر دوڑ، ہاتھ میں گیند اور پھر ایک بال… نوجوان کرکٹر کا انوکھا عالمی ریکارڈ بنانے کا مشن
لندن (4 ستمبر 2026): کرکٹ میں تیز گیند کرانے کے لیے چند قدم کا رن اپ تو عام بات ہے، لیکن اگر کوئی بولر گیند کرانے سے پہلے 100 کلومیٹر کا فاصلہ دوڑ جائے تو یہ یقیناً ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔
برطانیہ میں 22 سالہ کلب کرکٹر سام بوڈوانو نے کچھ ایسا ہی منفرد چیلنج قبول کیا۔ عالمی ریکارڈ اپنے نام کرنے کی کوشش میں انہوں نے لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ اسٹیڈیم سے دوڑ کا آغاز کیا اور تقریباً 14 گھنٹے 6 منٹ مسلسل دوڑنے کے بعد سرے پہنچ کر بالآخر گیند کرائی۔
اس منفرد کوشش کی سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ سام نے پورے سفر کے دوران گیند اپنے ہاتھ میں تھامے رکھی۔ منزل پر پہنچنے کے بعد انہوں نے یہ گیند اپنے والد کو کرائی، جنہوں نے اسے کور کی جانب کھیلا، تاہم اس گیند پر کوئی رن نہ بن سکا۔
سام بوڈوانو کا کہنا ہے کہ 100 کلومیٹر کی اس دوڑ کے دوران گیند کو مسلسل سنبھالے رکھنا آسان نہیں تھا، لیکن ایک مثبت اور نیک مقصد انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا رہا۔
ان کے مطابق اس غیر معمولی کوشش کا مقصد صرف عالمی ریکارڈ قائم کرنا نہیں تھا بلکہ ایک فلاحی ادارے کے لیے 6 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم جمع کرنا بھی اس مشن کا اہم حصہ تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق اس نوعیت کا موجودہ اعزاز اگست 2024 میں قائم ہوا تھا، جب ایک بولر نے تقریباً 15 میل دوڑنے کے بعد گیند کرائی تھی۔
سام بوڈوانو نے اس بار فاصلہ کہیں زیادہ بڑھا کر 100 کلومیٹر تک پہنچا دیا ہے، تاہم گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے ان کی کوشش کو تاحال باضابطہ عالمی ریکارڈ قرار نہیں دیا گیا۔
اگر یہ کوشش باضابطہ طور پر منظور ہو جاتی ہے تو سام بوڈوانو کا نام کرکٹ کے ساتھ ساتھ عالمی ریکارڈ کی تاریخ میں بھی ایک انتہائی منفرد انداز سے درج ہو سکتا ہے۔
