نومبر 4, 2026

ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملہ، 12 افراد ہلاک، 309 زخمی؛ سینکڑوں پروازیں منسوخ

0
new-x

ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد کی ہلاکت اور 309 کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حملے کے بعد ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا، جبکہ سینکڑوں پروازیں منسوخ ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سعودی عرب کے چار اور بنگلادیش کے دو شہری شامل ہیں، جبکہ امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے تعلق رکھنے والا ایک ایک شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ایئرپورٹ بند، سینکڑوں پروازیں متاثر

میزائل حملے کے بعد حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ کا فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا۔ جاری کردہ نوٹم کے مطابق ایئرپورٹ رات 9 بجے تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ حملے سے ہونے والے مالی اور مادی نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ریاض آنے اور جانے والی متعدد پروازوں کا رخ دمام، جدہ اور مدینہ کے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ اس صورت حال نے ان تینوں شہروں کے فضائی آپریشن کو بھی متاثر کیا ہے۔ حکام کے مطابق ریاض ایئرپورٹ کے لیے آج مقررہ 750 پروازوں میں سے 446 منسوخ کر دی گئی ہیں۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی تازہ صورت حال معلوم کر لیں۔

ایک ہفتے میں تیسرا حملہ، ہلاکتوں میں اضافہ

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتے کو ہونے والا یہ حملہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سعودی عرب پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملہ اچانک ہوا اور سعودی عرب کے خطرات سے آگاہ کرنے والے نظام کی جانب سے کوئی پیشگی انتباہ جاری نہیں کیا گیا۔

شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو رواں ہفتے اس سے پہلے بھی دو حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جن میں چار افراد ہلاک ہوئے اور رن وے پر موجود سعودی تجارتی طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ تازہ حملے کے بعد ایئرپورٹ کی سکیورٹی اور فضائی تحفظ سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

سعودی اتحاد کا جوابی کارروائی کا اعلان

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملے کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب حوثی تحریک کے میڈیا دفتر کے سربراہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ان کی کارروائی کے نتیجے میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بند کرنا پڑا۔

حوثیوں کی جانب سے اس سے قبل بھی مسافر طیاروں کو سعودی فضائی حدود سے دور رہنے کی تنبیہ کی جا چکی ہے۔ ادھر یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے پیر سے حوثیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں، جس کے بعد حوثیوں نے سعودی فضائی حدود کو فوجی کارروائیوں کا علاقہ قرار دیا ہے۔

تازہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ فضائی سفر کی بحالی اور ایئرپورٹ کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر نئے انداز میں مرتب کی گئی ہے۔ اشاعت سے قبل ہلاکتوں، زخمیوں، پروازوں اور حملے کی ذمہ داری سے متعلق تفصیلات کی مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کر لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے