نومبر 3, 2026

سکھر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا گیا

0
teherrer

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی مرکزی کال پر 3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نافذ کی گئی ایمرجنسی اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف یومِ سیاہ منایا گیا۔ اسی تسلسل میں ملک بھر کے میڈیا اداروں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں اور واجبات کی عدم ادائیگی، سکھر میں ٹی وی چینلز کے بیورو دفاتر کی بندش، پیکا ایکٹ کے غلط استعمال اور آزادیٔ صحافت پر عائد قدغنوں کے خلاف سکھر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا گیا۔ سکھر ڈویژن کے مختلف اضلاع میں یومِ سیاہ کے موقع پر پریس کلبز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے، جبکہ سکھر پریس کلب سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں صحافیوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ریلی شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی سندھ کے نامور صحافی اور شہید جان محمد مہر کی جائے شہادت پر پہنچی، جہاں شرکاء نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ بعدازاں ریلی سکھر پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی۔ احتجاجی مظاہرے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے میڈیا کا گلا گھونٹنے، ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے اور صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی تھی، مگر افسوس کہ آج جمہوری دور میں بھی میڈیا کو ایسی ہی آمرانہ پابندیوں اور دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آمر مشرف کی روح آج بھی زندہ ہے، جو جمہوری حکمرانوں سے آمرانہ فیصلے کروا رہی ہے اور ماضی کے سیاہ دور کی یادیں تازہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کے دور میں صحافیوں کی جبری برطرفیاں، میڈیا اداروں کی بندش، غیر اعلانیہ سینسرشپ، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور اظہارِ رائے پر پابندیاں جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔ صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنے اور ان کی آواز دبانے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ آزادیٔ صحافت کسی حکمران یا حکومت کی عطا نہیں بلکہ آئین پاکستان کا تسلیم شدہ بنیادی حق ہے۔ لالا اسد پٹھان نے مزید کہا کہ پیکا ایکٹ جیسے قوانین کو صحافیوں اور شہریوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کو قانونی و آئینی تحفظ فراہم کریں، نہ کہ انہیں خوف، دباؤ اور مقدمات کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کریں۔ پیکا ایکٹ میں صحافتی تنظیموں اور میڈیا نمائندوں کی مشاورت سے ترامیم کی جائیں اور اس قانون کے تحت صحافیوں کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات واپس لیے جائیں۔ انہوں نے شہید صحافی جان محمد مہر کے قتل کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سندھ اور وفاقی حکومت کے لیے انتہائی شرمناک اور لمحۂ فکریہ ہے کہ سندھ کے ایک انتہائی معتبر، نڈر اور پیشہ ور صحافی کے قتل میں ملوث ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے اور آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہید جان محمد مہر کے تمام قاتلوں اور سہولت کاروں کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے قتل کے واقعات میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر صحافی برادری کے تحفظات میں اضافہ کر رہی ہے۔ ریاست پاکستان اور سندھ حکومت صحافیوں کے تحفظ، میڈیا کی آزادی اور اظہارِ رائے کے آئینی حق کو یقینی بنائیں۔ سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کو دباؤ، خوف اور معاشی استحصال سے آزاد کیے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ صحافیوں کی جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور میڈیا اداروں پر غیر اعلانیہ پابندیاں نہ صرف صحافی برادری بلکہ عوام کے بنیادی حقِ معلومات پر بھی حملہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے معاشی، پیشہ ورانہ اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور آزادیٔ صحافت کے خلاف تمام اقدامات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ مظاہرے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خورشید میرانی، آغا عارف خان درانی، اللہ داد بوزدار، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما حزب اللہ جکھرو، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی اعظم طارق مہر، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی جاوید میمن، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما ماجد ڈنور، عیدن جاگیرانی، عرفان ملک، نوجوان قانون دان سندر چاچڑ، بیرسٹر خان غفار خان، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما عذرا جمال، سماجی رہنما غزالہ انجم، سماجی رہنما عبدالجبار خان، سندھ ویمن جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی صدر سحرش کھوکھر، جنرل سیکریٹری گل رخ ویرانی، تاجر رہنما غلام شبیر میمن، ظہیر بھٹی، آل سکھر تاجر اتحاد کے چیئرمین میر عبد الرحمان مینگل، سکھر پریس کلب کے صدر خالد بھانبن، جنرل سیکریٹری احقر رضوی، سکھر یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری کامران شیخ خازن شہزاد تابانی، کئمیرامین اینڈفوٹوجرنلسٹس ایسوسی ایشن کےصدر عمران شیخ، سیفما سکھر چیپٹر کے صدر عبدالحمید کمبوہ، صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکاء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور پیکا ایکٹ، صحافیوں کی جبری برطرفیوں، میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال، آزادیٔ صحافت پر پابندیوں اور شہید جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر صحافیوں کی جانب سے چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کیا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ میڈیا اداروں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور برطرف کیے گئے تمام ملازمین کو بحال کیا جائے، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں، واجبات اور دیگر مراعات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے، پیکا ایکٹ میں صحافتی تنظیموں اور میڈیا نمائندوں کی مشاورت سے ضروری ترامیم کی جائیں اور اس کے غلط استعمال کو روکا جائے، پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں اور اظہارِ رائے پر عائد غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں، سکھر میں بند کیے گئے ٹی وی چینلز کے بیورو دفاتر فوری بحال کیے جائیں، آزادیٔ صحافت پر عائد پابندیاں اور صحافتی آزادی کو محدود کرنے والے کالے قوانین ختم کیے جائیں، صحافیوں کو دورانِ ڈیوٹی مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، ان پر تشدد کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، شہید صحافی جان محمد مہر کے قتل میں ملوث تمام ملزمان اور سہولت کاروں کو فوری گرفتار کرکے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور آئین پاکستان کے تحت شہریوں اور صحافیوں کے حقِ آزادیٔ اظہار اور عوام کے حقِ معلومات کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور معاشی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور صحافیوں کے مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاجی تحریک کو مزید مؤثر اور وسیع کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے