حب میں بجلی کے بحران کے حل کے لیے اہم پیش رفت
کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ترجمان برائے بلوچستان میر علی حسن زہری اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی کراچی میں کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طحہٰ سے اہم ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں ضلع حب میں بجلی کی عدم دستیابی، طویل لوڈشیڈنگ، 24 گھنٹے بند رہنے والے فیڈرز، بجلی کے نئے کنکشنز، بجلی چوری اور عوام کو درپیش دیگر مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران حب کے بجلی کے بحران کے فوری حل کے لیے اہم پیش رفت ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وہ چار پی ایم ٹی فیڈرز جو اس وقت 24 گھنٹے مکمل طور پر بند رہتے ہیں، انہیں ابتدائی طور پر 6 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔ بجلی کی فراہمی کا یہ سلسلہ آج رات سے شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اس موقع پر طے پایا کہ ابتدائی طور پر 6 گھنٹے بجلی کی فراہمی شروع کی جائے گی جبکہ صورتحال میں بہتری کے ساتھ مرحلہ وار بجلی کی فراہمی کا دورانیہ مزید بڑھایا جائے گا اور اس عمل کو بتدریج بہتری کی جانب لے جایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد حب کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور 24 گھنٹے بجلی کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات میں کمی لانا ہے۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کے الیکٹرک کے متعلقہ افسران اور عملہ حب کے سیاسی و عوامی نمائندگان کے ساتھ مل کر بجلی کے مسائل کے مستقل حل کے لیے کام کریں گے۔ اس سلسلے میں چیئرمین میونسپل کارپوریشن حب، وائس چیئرمین ضلع کونسل حب، چیئرمینز اور دیگر سیاسی و عوامی نمائندگان کے الیکٹرک انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے نئے بجلی کنکشنز، بجلی چوری اور دیگر متعلقہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ نئے بجلی کنکشنز کے حصول میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ 500 روپے فی کنکشن کی رقم قسط وار وصول کی جائے گی۔
میر علی حسن زہری اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ حب کے عوام طویل عرصے سے بجلی کی عدم دستیابی اور غیر معمولی لوڈشیڈنگ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بجلی کی مسلسل بندش سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ بھی متاثر ہو رہا ہے، اس لیے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حب کی اکثریتی آبادی اس وقت مالی مشکلات سے دوچار ہے، اس لیے بجلی کے بلوں میں ممکنہ رعایت اور عوام کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی کے الیکٹرک انتظامیہ سے بات کی گئی ہے۔
اس موقع پر کے الیکٹرک انتظامیہ کی جانب سے حب میں خصوصی ریلیف کیمپ قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، جہاں عوام کو بجلی کے بلوں، شکایات اور دیگر متعلقہ مسائل کے حوالے سے سہولت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
میر علی حسن زہری اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ بجلی کے بحران کا مستقل حل صرف لوڈشیڈنگ کم کرنے سے ممکن نہیں بلکہ بجلی چوری کی روک تھام، نئے کنکشنز کی فراہمی، ٹرانسفارمرز اور فیڈرز کے مسائل کے حل اور کے الیکٹرک و مقامی نمائندگان کے درمیان مؤثر تعاون بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حب کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کے الیکٹرک انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا۔ ابتدائی طور پر چار فیڈرز پر 8 گھنٹے بجلی کی فراہمی شروع کی جا رہی ہے، جس کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ حب میں بجلی کے نظام کو بتدریج بہتر بنایا جا سکے۔
ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حب کے عوام کو درپیش بجلی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریق مل کر عملی اقدامات جاری رکھیں گے
