نومبر 1, 2026

ٹراما ہفتہ آگاہی کے ذریعے شعور پیدا کرنا بہترین معاشرتی ذمہ داری ہے، ڈاکٹر صابر میمن

0
ddscxc

عوامی آگاہی میں اضافہ، محفوظ ڈرائیونگ کو معاشرتی رویہ بنایا جائے، صابرمیمن، دوسرے دن کی تقریبات سے خطاب

کراچی ( )انسانی جان ایک انمول نعمت ہے اور اسے غیر ضروری خطرات سے محفوظ رکھنا ہر فرد، ادارے اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی میں ٹراما آگاہی ہفتہ 2026 کے سلسلے میں منعقدہ دوسرے دن کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریبات کے دوسرے دن کا سب سے اہم موضوع ایک خصوصی انٹرایکٹو بین الادارہ جاتی ڈسکشن تھا جس کا موضوع تھا ’’ہم اپنے معاشرے میں چوٹوں اور حادثات سے کیسے بچاؤ کر سکتے ہیں؟‘‘ اس موضوع پر ڈاکڑ صابر میمن نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ سڑک پر چند لمحوں کی جلد بازی، غیر محتاط ڈرائیونگ، ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا اور ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنا کسی فرد اور اس کے خاندان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے اور SMBBIT نے ٹراما ہفتہ آگاہی منا کر عوام الناس میں بہترین شعور پیدا کرکے اپنی معاشرتی ذمہ داری بخوبی نبھائی ہے۔ تقریب کے دوسرے مقرر ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل کرکے ہم 70 فیصد حادثات سے بچ سکتے ہیں۔ سڑک پر چند منٹ بچانے کے لیے اپنی یا کسی دوسرے کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا دانش مندی نہیں۔ محفوظ رفتار اختیار کرنا، ٹریفک اشاروں کی پابندی، حفاظتی سامان استعمال کرنا اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ایک محفوظ معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ٹراما سینٹر کراچی میں 70 فیصد ٹریفک حادثات کے کیسز آتے ہیں اور الحمدللہ ان کی ریکوری کی شرح بہت اچھی ہے۔SMBBIT کے ڈائریکٹر صابر میمن نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ حادثات کی روک تھام اجتماعی ذمہ داری ہے، ہر انسانی جان قیمتی ہے۔ ٹریفک قوانین کی پاسداری محفوظ رفتار، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون سے اجتناب اور دوسروں کے حقِ راستہ کا احترام ایسے بنیادی اقدامات ہیں جو سنگین حادثات کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں، ریسکیو اداروں، ٹریفک پولیس، عوامی صحت کے ماہرین اور کمیونٹی کے درمیان مربوط تعاون کے ذریعے ٹراما سے بچاؤ کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ایس ایم بی بی انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما چوبیس گھنٹے ہنگامی طبی خدمات حادثات اور شدید چوٹوں سے متاثرہ افراد کو بروقت طبی امداد اور ضروری علاج تک رسائی کا ضامن ہے۔ الحمدللہ ہمارے ٹراما سینٹر کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے پانچ سو سے زائد مریض لائے جاتے ہیں جن میں 80فیصد افراد ریکور کرلئے جاتے ہیں۔ ہمارا ادارہ پاکستان ہی نہیں ایشیا کے ان چند ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جہاں مریضوں کا بالکل مفت علاج کیا جاتا ہے۔ تاہم، پائیدار بہتری کے لیے ضروری ہے کہ حادثات کی وجوہات کو سمجھا جائے، عوامی آگاہی میں اضافہ کیا جائے اور محفوظ ڈرائیونگ کو معاشرتی رویے کا حصہ بنایا جائے۔ پینل ڈسکشن کے دیگر شرکاء مہمان خصوصی پروفیسر انیس بھٹی ممبر آف گورننگ باڈی کے علاوہ ڈاکٹر عابد جلال — چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو 1122 ، ڈاکٹر جمیل — سربراہ شعبۂ ایمرجنسی ڈاؤ ٹراما ہسپتال،. ڈاکٹر مختیار بھیو — عالمی ادارۂ صحت (WHO)، سندھ ڈاکٹر نوشین — ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) ، ڈپٹی سپرٹینڈنٹ پولیس علی سواد ، SMBBIT نے بھی خطاب کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے