نومبر 1, 2026

کھوسکی میں گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کی عمارت خستہ حالی کے باعث طلبہ اور اساتذہ کے لیے خطرہ بن گئی

0
mtn-news

ماتلی (رپورٹ دلمراد کمبوہ) کھوسکی میں گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کی عمارت خستہ حالی کے باعث طلبہ اور اساتذہ کے لیے خطرہ بن گئی۔ چھتوں سے پلستر اور چاپڑ گرنے جبکہ دیواروں میں دراڑیں پڑنے کے واقعات کے باعث تقریبا 2 ہزار طلبہ اور اساتذہ کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ عمارت کی خراب صورتحال کے پیش نظر اساتذہ نے اسکول کے باہر ٹینٹ لگا کر تدریسی عمل جاری رکھا ہوا ہے جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال مؤثر اقدامات نہ کیے جانے پر اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔تفصیلات کے مطابق تقریبا 50 ہزار آبادی پر مشتمل کھوسکی ٹاؤن میں قائم یہ تعلیمی ادارہ پہلی جماعت سے انٹرمیڈیٹ تک کے طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ سال 2014 میں قائم ہونے والے اسکول کی عمارت اب انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے جہاں چھتوں سے پلستر اور چاپڑ گرنا معمول بن گیا ہے جبکہ دیواروں میں پڑنے والی دراڑوں نے بھی عمارت کی مخدوش صورتحال کو نمایاں کر دیا ہے۔ طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر اساتذہ نے عمارت کے باہر ٹینٹ لگا کر تدریسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔اسکول کے ہیڈ ماسٹر میوا رام، فدا سیال اور طلبہ خالد علی، وسیم سمیت دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے قبل طلبہ گورنمنٹ ہائی اسکول کی عمارت میں تعلیم حاصل کرتے تھے تاہم مذکورہ عمارت مکمل طور پر منہدم ہونے کے بعد طلبہ کو دوسری عمارت میں منتقل کرکے تدریسی عمل شروع کیا گیا تھا۔ اب دوسری عمارت بھی خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے اور چھتوں سے چاپڑ گرنے کے باعث طلبہ اور اساتذہ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسکول میں تقریبا 2 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اور عمارت کی خراب صورتحال کے باعث ان کی تعلیم کے ساتھ قیمتی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں۔ اس سنگین مسئلے سے محکمہ ایجوکیشن ورکس اور اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود تاحال کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔اسکول انتظامیہ، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں نے اعلی حکام اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کھوسکی کی خستہ حال عمارت کا فوری نوٹس لے کر اس کی تعمیر نو یا ضروری مرمت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ اور اساتذہ کی زندگیاں محفوظ بنانے کے ساتھ علاقے کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی بلا رکاوٹ جاری رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے