بھارت میں نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی (Gen Z)، کی احتجاجی تحریک نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر سیاسی دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دی
۔ احتجاج میں مسلسل شدت آنے کے باعث مودی حکومت کو اپنی تیسری مدتِ اقتدار کے دوران ایک بڑے عوامی چیلنج کا سامنا ہے۔
نوجوانوں کی قیادت میں جاری اس تحریک نے ملک کی سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی مہم نے حکومت مخالف جذبات کو منظم احتجاج میں بدل دیا، جبکہ سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور بعد ازاں جبری منتقلی نے احتجاج کو مزید تقویت فراہم کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تحریک وزیراعظم مودی کی تیسری مدتِ حکومت میں اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ تصور کی جا رہی ہے۔ اس کے پس منظر میں امتحانی اسکینڈلز، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد میں کمی جیسے عوامل شامل ہیں۔
پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد کئی علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان جھڑپوں میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل ہیں۔ حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر کے حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی۔
احتجاج کرنے والوں کا بنیادی مطالبہ وزیرِ تعلیم کے استعفے کا ہے۔ اس تحریک کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور اسے ملک بھر میں جنریشن زی کی مضبوط آواز قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق یہ تحریک ابتدا میں سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ مہم کے طور پر سامنے آئی تھی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ سڑکوں پر ہونے والے منظم احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج نوجوانوں میں روزگار کے محدود مواقع، امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی بحران کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے کی عکاسی کرتا ہے۔
