پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے دور کا آغاز، معاہدے پر دستخط
دوحہ (21 اکتوبر 2026): پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت میں اشتراک بڑھانے اور فوجی پیداواری صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’بدر‘ کے نام سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت کو چاروں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی جہت دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ دستخطی تقریب میں چاروں ممالک کے اعلیٰ دفاعی حکام نے شرکت کی۔ ترک میڈیا کے مطابق پاکستان کی جانب سے وزیرِ دفاع خواجہ آصف جبکہ ترکیہ کی نمائندگی وزیرِ دفاع یشار گولر نے کی۔ قطر کے وزیرِ دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمان الثانی اور انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع نے بھی معاہدے کی دستاویز پر دستخط کیے۔
معاہدے کا بنیادی ہدف چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔ اس کے تحت فوجی پیداوار میں اشتراک، دفاعی شعبے میں صنعتی روابط کے فروغ اور عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر کام کیا جائے گا۔
مفاہمتی یادداشت میں تکنیکی فوجی تربیت، دفاعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جدید دفاعی نظاموں کی تیاری اور دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں بھی اس تعاون کا حصہ ہوں گی۔
دفاعی شعبے میں یہ کثیر الملکی پیش رفت پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو وسعت دینے اور ایک دوسرے کی صنعتی و تکنیکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ معاہدے پر عمل درآمد کی پیش رفت اس بات کا تعین کرے گی کہ چاروں ممالک کا یہ اشتراک مستقبل میں دفاعی پیداوار، تحقیق اور تربیت کے شعبوں میں کس حد تک عملی نتائج سامنے لاتا ہے۔
’بدر‘ معاہدے کو چاروں ممالک کے دفاعی تعلقات میں تعاون کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانا اور دفاعی صنعت میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
