اکتوبر 6, 2026

بلوچستان اپنے قدیم تہذیبی ورثے، تاریخی مقامات، طویل ساحلی پٹی اور نایاب جانوروں کے باعث دنیابھر کے سیاحوں کیلئے ایک پرکشش مقام رکھتا ہے، نوابزادہ زرین خان مگسی

0
zareen-khan-magsi

بلوچستان اپنے قدیم تہذیبی ورثے، تاریخی مقامات، طویل ساحلی پٹی اور نایاب جانوروں کے باعث دنیابھر کے سیاحوں کیلئے ایک پرکشش مقام رکھتا ہے۔ صوبے میں سیاحت و ثقافت کو منظم انداز میں فروغ دیکر سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برس کی طرح گرینڈ فیسٹیول کا انعقاد وقفے وقفے سے جاری رہنا چاہیے۔ مادری زبانوں، شعراء، ادباء اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے باقاعدگی سے پروگراموں کا انعقاد کیا جائے۔ ہم نے اپنے تمام سیاسی کیریئر میں سیاست کے ساتھ ساتھ کلچر، ادب اور میڈیا سے وابستہ افراد کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھے ہوئے ہیں اور ہر ممکن تعاون بھی کرتے رہے ہیں

کوئٹہ8 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و ثقافت نوابزادہ زریں مگسی نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی جسمیں بلوچستان میں ثقافت، سیاحت، مادری زبانوں، ادب و فن کے فروغ سمیت صوبے کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان اپنے قدیم تہذیبی ورثے، تاریخی مقامات، طویل ساحلی پٹی اور نایاب پرندوں و جانوروں کے باعث دنیابھر کے سیاحوں کیلئے ایک پرکشش مقام رکھتا ہے۔ صوبے میں سیاحت اور ثقافت کو منظم انداز میں فروغ دیکر نہ صرف سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکتا ہے بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری پر زور دیا کہ ثقافت اور سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی مادری زبانوں، شعراء، ادباء، دانشوروں اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے باقاعدگی سے سیمینارز اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے۔ ہم نے اپنے تمام سیاسی کیریئر میں پارلیمانی سیاست کے ساتھ ساتھ کلچر، ادب اور میڈیا سے وابستہ افراد کے ساتھ روزِ اول سے خوشگوار تعلقات قائم رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان شعبوں سے وابستہ افراد کے خوشی اور مشکل دونوں وقتوں میں ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ہر ممکن ان کی معاونت بھی کرتے رہے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے گزشتہ سال اسلام آباد میں بلوچستان گرینڈ ٹورازم فیسٹیول کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تعمیری کاوش تھی۔ ایسے گرینڈ فیسٹیولز کا انعقاد وقفے وقفے سے جاری رہنا چاہیے تاہم ان پروگراموں کو مزید مؤثر بنانے کیلئے مقامی ٹی وی آرٹسٹوں، گلوکاروں، شعراء اور ادباء کو بھرپور انداز میں شامل کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قیمتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے نوجوان نسل اور عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں سامنے لاہا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے