نومبر 2, 2026

خواتین اپنی تصاویر آن لائن شیئر کرنے سے گریز کریں، محسن نقوی

0
mohsin-naqvi

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خواتین کو سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شیئر کرنے میں احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد تصاویر کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ آن لائن فراڈ اور سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں سائبر جرائم اور آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث ہیں، جن سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ایجنسی کے عملے اور وسائل میں اضافہ ناگزیر ہے۔

محسن نقوی نے شہریوں کو خبردار کیا کہ اگر کوئی نامعلوم شخص آن لائن رقم کا مطالبہ کرے تو تصدیق کے بغیر اسے پیسے نہ بھیجے جائیں۔ انہوں نے خواتین کو خصوصی طور پر مشورہ دیا کہ اپنی تصاویر سوشل میڈیا یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے وقت محتاط رہیں، کیونکہ ایسی تصاویر بعد میں ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق خواتین کو بلیک میل کرنے سے متعلق شکایات سائبر کرائم اداروں کو موصول ہونے والی درخواستوں میں نمایاں ہیں۔ انہوں نے عملے کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر میں متعلقہ ادارے کے پاس صرف 61 اہلکار موجود ہیں، جبکہ ایک تفتیشی افسر کو تین سے چار ہزار مقدمات تک دیکھنے پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ مقدمات کی مؤثر تفتیش مشکل ہے، اس لیے افرادی قوت اور انتظامی صلاحیت بڑھائی جائے گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے کو حاصل بعض قانونی اختیارات فی الحال این سی سی آئی اے کے پاس نہیں ہیں۔ اس خلا کو دور کرنے، سائبر کرائم کی تحقیقات کرنے والے ادارے کو مزید بااختیار بنانے اور اسے ایف آئی اے جیسے اختیارات دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایجنسی کے لیے الگ تھانے قائم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔

وزیر داخلہ نے این سی سی آئی اے کی حالیہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے ایف بی آئی کو مطلوب ایک خطرناک ملزم سمیت پورنوگرافک مواد سے متعلق جرائم میں ملوث افراد کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہراسانی کے مقدمات میں سرکاری ملازمین اور عام شہریوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی مہم کو وسعت دی جائے گی تاکہ شہری آن لائن فراڈ، ذاتی معلومات کے غلط استعمال اور بلیک میلنگ کے خطرات سے متعلق بہتر شعور حاصل کر سکیں۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ نے سیاسی صورت حال پر بھی گفتگو کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض عناصر نے حکومت کے خلاف بلوے کرانے کی کوشش کی، جس پر مقدمات درج کیے گئے، تاہم ان کے مطابق عوام نے ان کوششوں کا ساتھ نہیں دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے