اکتوبر 6, 2026

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت نوجوانوں کو جدید و روایتی ہنر سے آراستہ کرنے، فنی تعلیم کے فروغ اور مقامی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے ماڈل ہائی اسکول گوادر میں قائم بوٹ میکنگ سینٹر کا دورہ

0
gwader-news

گوادر: 11ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت نوجوانوں کو جدید و روایتی ہنر سے آراستہ کرنے، فنی تعلیم کے فروغ اور مقامی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے ماڈل ہائی اسکول گوادر میں قائم بوٹ میکنگ سینٹر کا دورہ کیا۔یونیسف کے تعاون سے قائم کیے گئے فنی تربیتی مرکز میں اسسٹنٹ کمشنر کو عادل نودیزئی نے طلبہ کو دی جانے والی تربیت اور مرکز کی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ گوادر کی قدیم سمندری شناخت اور ساحلی ثقافت سے جڑے روایتی ہنر کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے طلبہ کو چھوٹی اور دیدہ زیب کشتیوں کے ماڈلز تیار کرنے کی عملی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔مرکز میں پرائمری کی اعلیٰ جماعتوں سے لے کر ہائی اسکول تک کے طلبہ کو کشتیوں کے خوبصورت اور منفرد ماڈلز تیار کرنے کا ہنر سکھایا جا رہا ہے، جو نہ صرف فنی صلاحیتوں کے فروغ کا ذریعہ ہیں بلکہ گوادر کی سمندری تہذیب، ثقافتی ورثے اور مقامی شناخت کی خوبصورت عکاسی بھی کرتے ہیں۔ طلبہ کی تربیت کے لیے دو تربیت یافتہ انسٹرکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مرکز میں عملی تربیت کے لیے جدید آلات اور ضروری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے طلبہ کی تیار کردہ کشتیوں کے ماڈلز کا معائنہ کیا اور ان کے ہنر و تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے اس منفرد اقدام کو گوادر کے روایتی ہنر کے تحفظ، نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور مقامی دستکاری کو فروغ دینے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ مرکز میں تیار ہونے والی مصنوعات کو گوادر شہر میں قائم مقامی آوٹ لیٹ کے ذریعے مارکیٹ کیا جا رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ہدایت کی کہ مقامی دستکاری کی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے بڑے شہروں، بالخصوص کراچی، کی مارکیٹ تک رسائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ طلبہ کی تیار کردہ مصنوعات کو وسیع منڈی میسر آئے اور گوادر کی منفرد سمندری شناخت کو ملک بھر میں اجاگر کیا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر نے انسٹرکٹرز، اسکول انتظامیہ اور یونیسف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فنی تربیت، مقامی ہنر کا تحفظ اور نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے گوادر کے نوجوان نہ صرف اپنی ثقافتی روایات کو آگے بڑھائیں گے بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو معاشی مواقع میں بھی تبدیل کر سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے