اکتوبر 6, 2026

گڈانی کشتی حادثے میں لاپتہ دونوں ماہیگیر بھائیوں کی لاشیں سمندر سے برآمد

0
gaddani-hadsa

گڈانی: گڈانی کے علاقے حبکو کنڈ کے قریب کھلے سمندر میں مچھلی کے شکار کے لیے جانے والی کشتی تیز سمندری لہروں کے باعث الٹنے کے نتیجے میں 6 ماہی گیر سمندر میں ڈوب گئے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران 3 ماہی گیروں کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا، جبکہ 3 ماہی گیر جاں بحق ہوگئے، جن کی میتیں بھی ریکور کرلی گئی ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ حب اور محکمہ فشریز لسبیلہ فوری طور پر متحرک ہوگئے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
ڈائریکٹر میرین فشریز جناب ظہور شاہ صاحب اور ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز جناب شکیل بلوچ کے احکامات پر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز لسبیلہ عبدالہادی کی سربراہی میں محکمہ فشریز کی خصوصی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہوئیں۔
محکمہ فشریز کی دو فشریز بوٹس گڈانی سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مسلسل حصہ لیتی رہیں، جن کے ذریعے سمندر کے مختلف حصوں میں لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش کی گئی۔
ریسکیو آپریشن کی زمینی و سمندری سطح پر نگرانی انسپکٹر طارق مجید اور انسپکٹر سمیع اللہ کی سربراہی میں کی گئی، جبکہ محکمہ فشریز کی دیگر فیلڈ ٹیموں نے بھی امدادی سرگرمیوں میں بھرپور تعاون کیا۔ مقامی ماہی گیر بھی فشریز ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر تلاش کے عمل میں شریک رہے، جبکہ متاثرہ ماہی گیروں کے اہلخانہ بھی ریسکیو ٹیم کے ہمراہ موجود رہے۔
ریسکیو کارروائی کے دوران 3 ماہی گیروں کو سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد کراچی منتقل کیا گیا۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران پہلے ایک جاں بحق ماہی گیر کی میت ریکور کی گئی، جبکہ بعد ازاں مزید 2 جاں بحق ماہی گیروں کی میتیں بھی سمندر سے ریکور کرلی گئیں۔
اس طرح حادثے میں متاثر ہونے والے کل 6 ماہی گیروں میں سے 3 ماہی گیر بحفاظت ریسکیو جبکہ 3 ماہی گیر جاں بحق ہوئے، اور تینوں جاں بحق ماہی گیروں کی میتیں ریکور کرلی گئی ہیں۔
محکمہ فشریز لسبیلہ کی ریسکیو ٹیموں نے مسلسل سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا اور لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش و بازیابی کے لیے دستیاب فشریز بوٹس، افرادی قوت اور دیگر وسائل کو مکمل طور پر بروئے کار لایا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر حب مہیم جان بلوچستان بھی ریسکیو ٹیموں سے مسلسل رابطے میں رہے اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی پیش رفت سے باخبر رہتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کی نگرانی کرتے رہے۔
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ فشریز کے مطابق رات کے اندھیرے، کم حدِ نگاہ، تیز سمندری لہروں اور نامساعد سمندری حالات کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، تاہم محکمہ فشریز کی ٹیموں نے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو مسلسل جاری رکھا۔
محکمہ فشریز لسبیلہ نے جاں بحق ماہی گیروں کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں محکمہ فشریز متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
محکمہ فشریز لسبیلہ — مشکل کی گھڑی میں ماہی گیر برادری کے ساتھ، سمندر میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت متحرک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے