نومبر 4, 2026

خیبر پختونخوا میں امن کا قیام اولین ترجیح، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہوگی: فیصل کریم کنڈی

0
faiisal-kareem-kundi-

پشاور (11 اکتوبر 2026): گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشتگردی کے مکمل خاتمے، کرپشن کے خلاف سخت اقدامات اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست کی رٹ مضبوط بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق محض کمیٹیاں تشکیل دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ ہر فیصلے پر عملدرآمد اور اس کے نتائج کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کرپشن کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور عوام نے جو اعتماد کیا ہے، اسے عملی کارکردگی سے درست ثابت کرنا ہوگا۔

فیصل کریم کنڈی نے اپنے پیغام میں خیبر پختونخوا کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں غیر معمولی حالات کے باعث آئینی اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ان کا مقصد سیاسی محاذ آرائی یا کسی فرد اور جماعت کو نشانہ بنانا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل ہدف صوبے کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، گورنر خیبر پختونخوا

گورنر نے واضح کیا کہ صوبے کی ترقی کے لیے سب سے پہلے امن قائم کرنا ہوگا، کیونکہ امن و امان کی بہتر صورتحال کے بغیر معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں اور اب انہیں پائیدار امن فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ان کے مطابق ریاست کی کارروائیوں کا ہدف صرف دہشتگرد عناصر نہیں بلکہ وہ نیٹ ورک اور سہولت کار بھی ہوں گے جو دہشتگردی کو تقویت دیتے اور حکومتی عملداری کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ایسے تمام عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں ریاستی رٹ مضبوط بنانے کے ساتھ وہاں کے عوام کو ضروری سہولتیں فراہم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہری ریاست کے لیے نہیں بلکہ ریاست شہریوں کی خدمت کے لیے ہوتی ہے۔

پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کا اعلان

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے تحت پولیس کو جدید وسائل فراہم کرنے اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ ان کے بقول پولیس اہلکاروں کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے قومی ایکشن پلان اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے لیے مربوط کارروائیاں کی جائیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کو تشدد اور اسلحے کے بجائے تعلیم، کتاب اور امید کے راستے پر گامزن کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے اور سیاحت کے فروغ پر زور

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں گیس اور پانی سمیت ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو عوامی فلاح، معاشی بہتری اور صوبے کی ترقی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایڈوائزری کونسل کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا اور وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا ایسے عملی اقدامات کرے گا جنہیں دوسرے صوبے بھی اپنانے میں دلچسپی لیں۔

گورنر نے سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے اور دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں حالات بہتر ہونے کے بعد عوام کو زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

عوام سے تعاون کی اپیل، امن کی بحالی کا عزم

فیصل کریم کنڈی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ دہشتگردی یا دہشتگردوں کی سہولت کاری سے متعلق کسی بھی اطلاع کو متعلقہ اداروں تک پہنچائیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے دائرے میں رہنے والے ہر شہری کو تحفظ اور ضروری سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

گورنر کے مطابق صوبے کو درپیش مشکلات یقیناً بڑی ہیں، لیکن ان سے نمٹنے کے لیے عزم بھی مضبوط ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششوں، مؤثر حکمت عملی اور ریاستی اداروں کے تعاون سے خیبر پختونخوا میں امن بحال ہوگا، حکومتی عملداری مضبوط ہوگی اور عوام کو ترقی و خوشحالی کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے اسباب، سہولت کاری کے نیٹ ورکس اور اس پورے نظام کا خاتمہ، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات صوبائی حکمت عملی کے اہم ستون ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے