تھر کی مائی بھاگی: لوک موسیقی کی وہ آواز جو صدیوں تک زندہ رہے گی
تھرپارکر کے ایک پسماندہ اور چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولنے والی مائی بھاگی نے غربت، محرومی اور سخت حالات کے باوجود اپنی قدرتی آواز اور فن کے ذریعے وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب بہت کم لوگ دیکھ پاتے ہیں۔ بعد ازاں وہ ’’تھر کی کوئل‘‘ کے نام سے جانی گئیں اور اپنی لازوال گائیکی سے لوک موسیقی کو نئی روح عطا کی۔
1960ء کی دہائی میں ریڈیو پاکستان سے ان کے فنی سفر کا آغاز ہوا، جہاں سے ان کی آواز نے سرحدوں سے نکل کر عالمی سطح تک رسائی حاصل کی۔ مائی بھاگی نے تھری اور مارواڑی لوک موسیقی کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے بین الاقوامی شناخت بھی دلائی۔ ان کا شہرۂ آفاق گیت “کھڑی نیم کے نیچے” آج بھی سننے والوں کے دلوں پر سحر طاری کر دیتا ہے۔
تھر کی ثقافت اور لوک ورثے کو عالمی منظرنامے پر متعارف کروانے کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس جیسے اعلیٰ قومی اعزاز سے نوازا۔ اگرچہ مائی بھاگی 7 جولائی 1986ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر ان کی آواز، گیت اور ثقافتی خدمات آج بھی تھر کی پہچان اور لوک موسیقی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
