جولائی 7, 2026

انقرہ میں ٹرمپ اور اردوان کی مشترکہ میڈیا گفتگو، امریکا–ترکیہ تعلقات، نیٹو اور خطے کے اہم امور پر کھل کر اظہارِ خیال

0
US President Donald Trump and Turkish President Recep Tayyip Erdogan speaking to media in Ankara

Donald Trump and Recep Tayyip Erdogan address media during a high-level meeting in Ankara

انقرہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر اردوان ان کے قریبی دوست ہیں اور امریکا و ترکیہ کے تعلقات نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے کئی ممالک اب بھی ترکیہ کی حقیقی فوجی صلاحیت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان کے ساتھ تجارت، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون، ایران کی صورتحال اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ترکیہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

نیٹو سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے اتحاد کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اجلاس میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے تھے، تاہم چونکہ اس کی میزبانی ترکیہ کر رہا تھا، اس لیے انہوں نے شرکت کا فیصلہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ اتحادی مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو ضرورت پڑی تو مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوا۔

ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس آپریشن میں امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ بعض اتحادی صرف جنگ کے خاتمے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔

ترکیہ کے دفاعی معاملات پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فراہمی پر کوئی تشویش نہیں، جبکہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی اعتراض نہیں کیونکہ ہر خودمختار ملک کو اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔

روس–یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ تنازع کے حل میں پیش رفت ہوگی اور جنگ جلد اختتام کو پہنچے گی۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے شام کے صدر احمد الشرع کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تقسیم شدہ ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتا اور خطے کے مسائل کا حل تعاون، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے نکالنے کو ترجیح دیتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انقرہ آمد پر ایتیمس گوت ایئر بیس پر خصوصی استقبالی تقریب منعقد کی گئی۔ ترک روایات کے مطابق سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکیہ کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ترک اعزازی گارڈ نے امریکی صدر کو سلامی پیش کی، جبکہ صدر رجب طیب اردوان نے خود ہوائی اڈے پر موجود رہ کر اپنے مہمان کا استقبال کیا—جسے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے