جولائی 7, 2026

آسٹریلیا کے ساحل پر ملنے والی پراسرار چاندی جیسی گیندوں کا راز فاش

0
Mysterious silver-colored metal balls found on an Australian beach, later identified as rocket fuel tanks

Pressurized rocket fuel tanks washed ashore at Forest Beach, Queensland

سڈنی:
آسٹریلیا کے ساحلی علاقے میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی پراسرار چاندی جیسی دھاتی گیندوں کا معمہ بالآخر حل ہوگیا ہے، جس کے بعد مقامی حکام اور عوام میں پائی جانے والی بے چینی میں کمی آگئی ہے۔

آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ کے ساحلی علاقے فورسٹ بیچ پر گزشتہ چند دنوں کے دوران سمندر سے بہہ کر آنے والی ان عجیب و غریب دھاتی اشیا نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ ابتدا میں ان گول، چمکدار اجسام کو عام سمندری بُوئے سمجھا گیا، تاہم ان کی تعداد اور غیر معمولی ساخت نے معاملے کو مشکوک بنا دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان دھاتی گیندوں کے ساحل پر نمودار ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ، پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولینس سروس اور خلائی ماہرین فوری طور پر متحرک ہوگئے۔ احتیاطی تدابیر کے تحت پولیس نے تقریباً 160 فٹ کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ اشیا زہریلے مواد پر مشتمل ہو سکتی ہیں۔ بعد ازاں پانچ دھاتی گیندوں کو خصوصی حفاظتی ڈرموں میں منتقل کر دیا گیا۔

بعد میں Australian Space Agency نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پراسرار اشیا دراصل راکٹوں میں استعمال ہونے والے ہائیڈرازین ایندھن کے دباؤ والے گول ٹینک (Pressurized Fuel Tanks) ہیں، جنہیں عام طور پر “اسپیس بالز” کہا جاتا ہے۔

ایجنسی کے مطابق ان ٹینکوں کی ساخت اور ساحل پر ملنے کا مقام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کسی غیر ملکی راکٹ کے ملبے کا حصہ ہو سکتے ہیں، جو حال ہی میں زمین کے مدار سے فضا میں داخل ہوا۔ عالمی خلائی اداروں کے ساتھ مل کر یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ یہ ملبہ کس ملک اور کس لانچ وہیکل سے تعلق رکھتا ہے۔

یونیورسٹی آف واروک کے پروفیسر ڈان پولاکو کے مطابق، امکان ہے کہ یہ ٹینک سمندر میں گرنے کے بعد لہروں کے ذریعے ساحل تک پہنچے ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں میں یہ ملبہ بھارتی یا چینی راکٹ کا ہو سکتا ہے، تاہم حتمی تصدیق تاحال باقی ہے۔

خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ زمین کی فضا زیادہ تر خلائی ملبے کو جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن کچھ مضبوط دھاتی حصے، خاص طور پر ٹائٹینیم یا کمپوزٹ مواد سے بنے پریشر ویسل، مکمل طور پر جلنے سے بچ جاتے ہیں اور زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔

آسٹریلوی خلائی ایجنسی نے عوام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ اگر کسی کو ایسی کوئی مشتبہ خلائی شے ملے تو اسے ہاتھ نہ لگایا جائے، فوراً مقامی حکام کو اطلاع دی جائے، کیونکہ بعض خلائی ملبہ انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے