اکتوبر 6, 2026

ایران کی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد

0
trump-news

واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بتایا کہ وہ نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا مؤقف بتایا گیا ہے کہ انہیں اس بات پر اعتماد نہیں کہ تہران امریکی مطالبات کو قبول کرے گا۔

ایرانی تجویز میں جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش شامل تھی۔ اس کے بدلے میں ایران چاہتا تھا کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے، جس کے باعث ایرانی معیشت پر نمایاں دباؤ پڑ رہا ہے۔

روئٹرز کے مطابق ایران ہفتے کے روز واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا منتظر تھا، تاہم اسی دوران وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ایران نے یہ سفارتی پیشکش نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سامنے رکھی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ پیغام قطری ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا گیا تھا۔

تہران کی تجویز کے تحت سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں جاری وسیع تر جنگی کارروائیوں کو روکنے کی راہ ہموار کی جا سکتی تھی۔

ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک سے بھی رابطے کیے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا طریقہ کار طے کیا جا سکتا ہے۔

عراقچی کے مطابق مجوزہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ عمل شروع کر سکتا ہے، جس کے ساتھ خطے میں جاری لڑائی روکنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اس تجویز پر رضامند ہوتا ہے تو جنگ میں شامل فریق باہمی طور پر طے کیے جانے والے معاملات پر وسیع تر مذاکرات شروع کر سکتے ہیں۔

ممکنہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی مرکزی حیثیت رکھ سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بنیادی مؤقف میں کسی قسم کی لچک دکھانے کا ارادہ نہیں رکھتا، چاہے امریکا جنگ بندی یا امن معاہدے کی تجویز قبول ہی کیوں نہ کر لے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران اپنے جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا، جن میں یورینیم افزودہ کرنے کا حق اور انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل نہ کرنے کا مؤقف بھی شامل ہے۔

یوں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے معاملات اہم ترین موضوعات بن سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے