ماتلی میں آئس سمیت منشیات کے بڑھتے کاروبار کے خلاف شہریوں کا احتجاج، بدین۔حیدرآباد روڈ پر دھرنا، کریک ڈاؤن کا مطالبہ
ماتلی.. ماتلی شہر اور گردونواح میں آئس سمیت منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار، بدامنی اور جرائم کے خلاف مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں اور سیکڑوں شہریوں نے فلکارہ چوک سے ماتلی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کی قیادت ایڈووکیٹ زاہد حسین چدڑ اور میونسپل کمیٹی ماتلی کے وائس چیئرمین قاضی عبدالوہاب نے کی۔اس موقع پر ایڈووکیٹ زاہد حسین چدڑ، وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی ماتلی قاضی عبدالوہاب، سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی ماتلی عبدالروف نظامانی، رفیق میمن، اسلم مہندو، خالد مگسی، اسلان خاصخیلی، رسول بخش مگسی، عبدالمقیت نظامانی، کیلاش مکوانہ، مظہر حنیف، احمد میر نظامانی، سلیم یوسف اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماتلی میں منشیات خصوصا آئس کے استعمال اور فروخت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ بدامنی اور جرائم کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور پولیس کو چاہیے کہ منشیات کے اڈوں کا مکمل خاتمہ کرکے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ آئس جیسی خطرناک منشیات نوجوان نسل کا مستقبل تباہ کر رہی ہے اور اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔ مقررین نے مزید کہا کہ بعض پولیس اہلکار مبینہ طور پر منشیات فروشوں سے رشوت لے کر انہیں یہ مکروہ دھندا جاری رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ آئس کے کاروبار کے باعث متعدد گھرانے تباہ ہو چکے ہیں جبکہ کم عمر بچوں، نوجوانوں اور خواتین سمیت معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس لعنت کا شکار ہو رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے جس سے شہر کے امن و امان کی صورتحال شدید متاثر ہوئی ہے۔مقررین نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ، اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ آئس سمیت ہر قسم کی منشیات کے کاروبار کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے منشیات فروشوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ماتلی کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
