حب/// فشریز کو آپریٹو سوسائٹی کے چیرمین میر علی اکبر زہری اور وائس چیئرمین ارشاد پارس مگسی نے اپنی مشترکہ جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان کے غریب ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
چیئرمین بلوچستان فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی میر علی اکبر زہری اور وائس چیئرمین بلوچستان فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی ارشاد پارس مگسی نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے غریب ماہی گیر صوبے کی معیشت اور سمندری معیشت (Blue Economy) کا اہم ستون ہیں، مگر افسوس کہ آج بھی یہ محنت کش طبقہ بنیادی تمام تر سہولیات، حکومتی سرپرستی اور معاشی تحفظ سے یکسر محروم ہیں۔ انتہائی مشکل حالات، محدود وسائل اور شدید معاشی دباؤ کے باوجود ہزاروں ماہی گیر اپنے خاندانوں کا رزق حلال کمانے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے ماہی گیروں کو جدید ماہی گیری کے آلات، محفوظ اور معیاری کشتیوں، کولڈ اسٹوریج، کولڈ چین، ایندھن پر سبسڈی، آسان قرضوں، انشورنس، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔ ان سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ماہی گیروں کو شدید مالی مشکلات، کم آمدنی اور غیر یقینی معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض بااثر عناصر کی جانب سے غریب ماہی گیروں کے استحصال، ناجائز مطالبات اور غیر ضروری رکاوٹوں کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں، جن کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور مؤثر کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ ماہی گیر عزت، تحفظ اور اعتماد کے ساتھ اپنا روزگار جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر، وزیرِ فشریز بلوچستان، سیکرٹری فشریز بلوچستان، ڈائریکٹر جنرل فشریز بلوچستان، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز بلوچستان، پاک بحریہ کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں سے پرزور اپیل کی کہ بلوچستان کے غریب ماہی گیروں کے مسائل کو ترجیحاتی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہی گیروں کو جدید ماہی گیری کے آلات، بلاسود یا آسان شرائط پر قرضے، ایندھن پر سبسڈی، کولڈ چین اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات، روزگار کے بہتر مواقع، سماجی تحفظ، فلاحی اسکیموں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں اور قومی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور زمہ داروں کی جانب سے فوری مالی معاونت فراہم کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم متعلقہ ادارے غریب ماہی گیروں کے آئینی و قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، ان کے استحصال کا خاتمہ کریں اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کریں تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنا روزگار جاری رکھتے ہوئے ملکی معیشت اور بلو اکانومی (Blue Economy) کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
آخر میں چیئرمین میر علی اکبر زہری اور وائس چیئرمین ارشاد پارس مگسی نے کہا کہ بلوچستان کے ماہی گیروں کی فلاح و بہبود صرف ان کے خاندانوں کی خوشحالی ہی نہیں بلکہ صوبے اور ملک کی معاشی ترقی، سمندری وسائل کے مؤثر استعمال اور برآمدات میں اضافے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ لہٰذا حکومتِ پاکستان، حکومتِ بلوچستان اور تمام متعلقہ ادارے اس اہم قومی مسئلے پر فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ ماہی گیر برادری کو درپیش مشکلات کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے
