بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر سپلائی کے خدشات کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں
کراچی: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر سپلائی کے خدشات کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جہاں بعض اقسام کے کروڈ آئل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقا میں خام تیل کے فزیکل کارگوز کی قیمتیں رواں ہفتے گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ سپلائی میں رکاوٹوں اور فوری فراہمی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث خریدار متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق کشیدگی اور یوکرین جنگ کے اثرات عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
عالمی خام تیل کے اہم معیار ڈیٹڈ برینٹ (Dated Brent) کی قیمت جمعرات کو 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مئی کے آخر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ جون کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ تھا کہ برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی حد سے تجاوز کر گئی۔
تیل کے بروکر تاماس وارگا کے مطابق سپلائی سے متعلق خدشات ایک بار پھر عالمی منڈی کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب قازقستان نے بھی بحیرہ اسود میں واقع سی پی سی بلینڈ (CPC Blend) خام تیل کے اہم برآمدی ٹرمینل کو مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد بند کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں ملک کی خام تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
ذرائع کے مطابق قازقستان کی یومیہ خام تیل پیداوار کم ہو کر تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بیرل رہ گئی ہے، جس سے عالمی سپلائی پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
