بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں بلکہ مکالمہ، تعلیم اور جمہوری عمل ہے، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی
یو ایم ٹی کے کانووکیشن سے خطاب؛ نوجوانوں کو تعلیم، تحقیق اور تنقیدی سوچ کے ذریعے ملک و قوم کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی تلقین
لاہور: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو اس وقت تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں مسلح تشدد، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی اور گمراہ کن بیانیے کا پھیلاؤ شامل ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں بلکہ مکالمہ، تعلیم اور جمہوری عمل ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کو محرومی اور پسماندگی سے جوڑ کر اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ مسلح تشدد کسی سیاسی یا نظریاتی مؤقف کا جواز نہیں بن سکتا۔ مسلح جتھوں کی جانب سے لوگوں کو قتل کرنا اور خوف و ہراس پھیلانا ایک سنگین چیلنج ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی اور انہیں گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اس لیے نوجوانوں میں حقائق اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔ جامعات نوجوانوں میں شعور، دلیل اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ بلوچستان کے حالات کو سمجھنے کے لیے گمراہ کن بیانیے کے بجائے حقائق کو سامنے رکھنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ یو ایم ٹی کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کو اسکالرشپس کی فراہمی خوش آئند ہے۔ پنجاب کی جامعات کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کی معاونت بین الصوبائی ہم آہنگی کی ایک مثبت مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان 80 فیصد سے زائد طلبہ کو 80 فیصد اسکالرشپ پر تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ نوجوانوں کی تعلیم اور استعداد کار میں سرمایہ کاری درحقیقت بلوچستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ تعلیم نوجوانوں کو انتہا پسندی، تشدد اور گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
گریجویٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گریجویشن اختتام نہیں بلکہ عملی زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ عملی زندگی میں کامیابی کے لیے محنت، دیانت داری اور مستقل مزاجی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آسمان کی بلندیوں کو اپنا ہدف بنائیں اور کامیابی کے حصول کے لیے مسلسل محنت کریں۔
