فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر جامشورو کے صحافیوں کے خلاف مبینہ جھوٹے مقدمات درج کرنے اور پولیس کی کارروائیوں کے خلاف بدین میں بھی صحافیوں نے احتجاجی ریلی نکالی
ماتلی (رپورٹ دلمراد کمبوہ) فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر جامشورو کے صحافیوں کے خلاف مبینہ جھوٹے مقدمات درج کرنے اور پولیس کی کارروائیوں کے خلاف بدین میں بھی صحافیوں نے احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی پریس کلب بدین سے ایوان صحافت تک نکالی گئی جس میں صحافیوں نے شرکت کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس موقع پر فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی رہنماؤں تنویر احمد آرائیں، حاجی خالد محمود گھمن، عطا چانڈیو، ایوان صحافت بدین کے جنرل سیکریٹری اختر علی کھوسو، پریس کلب کے صدر شوکت میمن، جنرل سیکریٹری عبدالشکور میمن اور خزانچی علی محمد شاہانی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامشورو میں بااثر افراد کی مبینہ ایما پر باریجا برادری سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے خلاف قتل کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ برفت برادری کے نوجوان کے قتل کے واقعے کی غیرجانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور اصل ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاہم کسی بھی ٹھوس ثبوت کے بغیر باریجا برادری اور صحافیوں کو مبینہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ جامشورو کے صحافیوں کے خلاف درج مبینہ جھوٹے مقدمات فوری ختم کرکے انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ صوبے بھر تک وسیع کیا جائے گا۔مظاہرے میں نصرت حسین جعفری، علی احمد میمن، امداد چانڈیو، نعیم کپری، ماما مجید ملاح، حسین سومرو، فرحان میمن، مبارک میراڻي، صمد کھوسو، کاشف میمن، غلام حسین چاوڑو، امتیاز چانڈیو، منور جمالی، میر شکیل میمن سمیت بدین پریس کلب اور ایوان صحافت کے صحافیوں نے شرکت کی۔
