ہماری حکومت نے ضلع حب کے بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا اور تمام فعال کیے گئے اسکولوں میں اساتذہ کی فراہمی یقینی بنائی۔ میر علی حسن زہری
حب : ترجمان صدر آصف علی زرداری برائے بلوچستان و پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری کی حب لیڈا آڈیٹوریم میں منعقدہ دی حب اکیڈمی ڈیبٹ 2026 کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت حب میں دی حب اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ڈیبٹ 2026 کی پروقار تقریب حب لیڈا آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس میں ترجمان صدر آصف علی زرداری برائے بلوچستان و پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب کے دوران طلباء و طالبات نے مختلف موضوعات پر مباحثے میں حصہ لیا اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر میر علی حسن زہری کے گزشتہ ڈھائی سالہ دور میں ضلع حب میں ہونے والے مختلف ترقیاتی و تعلیمی منصوبوں پر مبنی خصوصی ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی، جس میں جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب کے شرکاء کی جانب سے میر علی حسن زہری کی ترقیاتی و تعلیمی اقدامات کے حوالے سے کارکردگی کو سراہا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر علی حسن زہری نے کہا کہ ہماری حکومت نے ضلع حب کے بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا اور تمام فعال کیے گئے اسکولوں میں اساتذہ کی فراہمی یقینی بنائی۔ ضلع حب میں بڑی تعداد میں نئے اسکول قائم کیے گئے جبکہ متعدد اسکولوں کو اپ گریڈ بھی کیا گیاانہوں نے کہا کہ ساکران گرلز اسکول کی طالبات کے لیے بس فراہم کی گئی، گڈانی کے طلباء و طالبات کے لیے بھی ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا جبکہ گرلز ڈگری کالج حب کو بھی بس فراہم کردی گئی ہے۔ مزید تین بسیں بھی آرہی ہیں، جنہیں ضرورت کے مطابق مختلف تعلیمی اداروں میں فراہم کیا جائے گا۔میر علی حسن زہری نے کہا کہ مختلف اسکولوں میں طلباء و طالبات کو درپیش سہولیات کی کمی کو دور کرنے کے لیے اپنے ذاتی فنڈز سے بھی فرنیچر فراہم کیا گیا ہے، کیونکہ ہماری ترجیح ضلع حب میں تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ملک کی مجموعی صورتحال اور بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میر علی حسن زہری نے سابق صوبائی وزیر صادق عمرانی کی جانب سے اسلام آباد میں دیے گئے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صادق عمرانی نے جو بات کی وہ بالکل غلط بیانی پر مبنی ہے، جس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بلوچستان کو عزت دی گئی، جبکہ آرمی چیف نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلوچستان پاکستان کی شہ رگ ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے انتہائی مثبت باتیں کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری بھی ہوگی اور صوبے کی ترقی کے لیے بھی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔میر علی حسن زہری نے کہا کہ بلوچستان کو ترقی یافتہ صوبہ بنانے کے لیے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ آرمی چیف نے واضح کیا کہ بلوچستان ایک ترقی یافتہ صوبہ بنے گا اور جو طلباء و طالبات بلوچستان سے باہر یا بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں اسکالرشپس بھی فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کرنا کہ پاکستان کی فوج بلوچستان کے ساتھ نہیں، درست نہیں۔ بلوچستان پاکستان کے ساتھ ہے اور پاکستان بلوچستان کے ساتھ ہے، جبکہ پاک فوج جس طرح پورے ملک کی فوج ہے اسی طرح بلوچستان کی بھی فوج ہے۔میر علی حسن زہری نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ منفی پروپیگنڈے سے دور رہیں اور تعلیم پر توجہ دیں۔ ہم سب کو متحد ہوکر اپنے صوبے اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔
