ماتلی شہر اور گردونواح میں چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں، تاجروں اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کردی
ماتلی (رپورٹ دلمراد کمبوہ ) ماتلی شہر اور گردونواح میں چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں، تاجروں اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔دکانوں کے تالے توڑ کر سامان اور نقدی چوری کرنے، کاروباری مراکز کو نشانہ بنانے اور مسلح افراد کی جانب سے شہریوں کو لوٹنے کے واقعات کے باعث شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔تفصیلات کے مطابق 4 اگست 2026 کو ماتلی میں تاجر مزمل کمبوہ کی ایجنسی کے تالے توڑ کر چار لاکھ روپے سے زائد نقدی چوری کرلی گئی تھی۔ واقعے کا مقدمہ 6 اگست کو تھانہ ماتلی میں نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 219/2026، دفعات 457، 380 اور 34 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیا گیا تاہم 3 ماہ گرز گئے واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور چوری شدہ رقم کی برآمدگی ممکن نہ ہوسکی اس حوالے سے صحافی، شہری اور تاجر حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔شہری، صحافی و تاجر حلقوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا ہے کہ وارداتوں کی تفتیش میں پیش رفت، ملوث ملزمان کی گرفتاری اور مسروقہ مال کی برآمدگی یقینی بنائی جائے تاکہ شہریوں اور تاجروں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ اور شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جاسکے۔
