نومبر 1, 2026

گورنر بلوچستان سے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے وفد کی ملاقات

0
ddscx

گورنر بلوچستان سے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے وفد کی ملاقات، جدید میڈیکل ایجوکیشن اور ریسرچ کے فروغ پر تبادلہ خیال ۔۔۔۔ بلوچستان میں معیاری طبی تعلیم اور ٹریننگ کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے نوجوان ڈاکٹرز کو اعلیٰ پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کرنے کیلئے دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے اور انہیں اپنے ہی صوبے میں بہتر تعلیمی و تربیتی سہولیات میسر آسکیں

کوئٹہ 30 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے ایک وفد نے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی قیادت میں گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد میں پروفیسر ڈاکٹر سمعیہ سیف اللہ، پروفیسر عاصمہ اوپل، پروفیسر فضل داد کاکڑ، پروفیسر حبیب اللہ اور ڈاکٹر رضوانہ شامل تھیں۔ ملاقات کے دوران بلوچستان میں میڈیکل ایجوکیشن، میڈیکل ریسرچ، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور صحت کے شعبے میں اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میڈیکل یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالجز عموماً صحت کے شعبے میں تحقیق، اکیڈمک سرگرمیوں اور ڈگری پروگرامز پر خصوصی توجہ دیتے ہیں تاہم طبی شعبے میں عملی مہارت، اسپشلائزشن اور پروفیشنل استعداد کار میں اضافے کیلئے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان جیسے اداروں کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں معیاری طبی تعلیم اور ٹریننگ کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے نوجوان ڈاکٹرز کو اعلیٰ پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کرنے کیلئے دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے اور انہیں اپنے ہی صوبے میں بہتر تعلیمی و تربیتی سہولیات میسر آسکیں۔ گورنر نے کہا کہ صحت کے شعبے میں تحقیق اور جدید طبی علوم کو فروغ دینے کیلئے میڈیکل یونیورسٹز، کالجز اور پیشہ ورانہ طبی اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور اشتراک کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں قائم تربت اور لورالائی کی دونوں برانچوں کی موجودگی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مراکز کی استعداد کار میں اضافے اور تربیتی سہولیات کی بہتری سے صوبے کے مختلف علاقوں کے ڈاکٹروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ گورنر بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں میڈیکل ایجوکیشن، جدید طبی تحقیق اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے فروغ کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دی جائیگی تاکہ بلوچستان میں صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی طبی ماہرین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی نکھارا جا سکے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے