بدین کے قریب وہنائی موری پر پانی میں ڈوبنے والے نوجوان عبدالحکیم سومرو کی لاش دو روز گزرنے کے باوجود نہ مل سکی
ماتلی (رپورٹ دلمراد کمبوہ) بدین کے قریب وہنائی موری پر پانی میں ڈوبنے والے نوجوان عبدالحکیم سومرو کی لاش دو روز گزرنے کے باوجود نہ مل سکی۔ نوجوان کے ورثاء نے امیر بخش سومرو اور عزیز سومرو کی قیادت میں بدین کھوسکی ٹنڈو ٹکڑ روڈ پر دھرنا دے کر احتجاج کیا جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی اور سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔تفصیلات کے مطابق وہنائی موری پر نوجوان عبدالحکیم سومرو پانی میں ڈوب گیا تھا جس کی لاش کی تلاش تاحال جاری ہے۔ اس واقعے کے خلاف سومرو برادری کے افراد نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ٹھیکیدار کی مبینہ نااہلی کے باعث وہنائی پل کا کام ناقص اور نامکمل ہے، جس کی وجہ سے حادثات پیش آ رہے ہیں۔مظاہرین کے مطابق اس سے قبل بھی دو افراد پانی میں گر گئے تھے، تاہم علاقہ مکینوں نے انہیں بچا لیا تھا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوجوان عبدالحکیم سومرو کو پانی میں ڈوبے دو روز گزر چکے ہیں، لیکن اس کی لاش تاحال نہیں مل سکی۔ ورثاء نے الزام لگایا کہ آبپاشی کا عملہ اور ضلعی انتظامیہ پانی کی سطح کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے، جس کے باعث لاش کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔متاثرہ خاندان اور احتجاج کرنے والوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہنائی موری پر پانی کی سطح فوری طور پر کم کرکے نوجوان کی لاش تلاش کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور پل کی تعمیر میں مبینہ غفلت کا نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
