بدین کے نواحی علاقے کڈھن کے قریب گاؤں گونی کی رہائشی مسمات راحیلہ ملاح نے اپنے شوہر معشوق علی ملاح کی مبینہ گرفتاری اور گمشدگی کے خلاف ایوان صحافت بدین کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا
ماتلی (رپورٹ دلمراد کمبوہ) بدین کے نواحی علاقے کڈھن کے قریب گاؤں گونی کی رہائشی مسمات راحیلہ ملاح نے اپنے شوہر معشوق علی ملاح کی مبینہ گرفتاری اور گمشدگی کے خلاف ایوان صحافت بدین کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی آئی اے پولیس بدین پر شہری کو مبینہ طور پر زبردستی اٹھا کر لاپتا کرنے، خاتون سے بدتمیزی، تشدد اور نقد رقم و موبائل فون چھیننے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر معشوق علی ملاح کے ہمراہ اپنی بیٹی کے لیے سونے کی انگوٹھی خریدنے بدین شہر آ رہی تھیں کہ آرمی شوگر مل کے قریب چار سے پانچ گاڑیوں میں سوار سادہ لباس افراد نے انہیں موٹر سائیکل سے زبردستی اتار لیا۔ خاتون کے مطابق مذکورہ افراد سی آئی اے پولیس کے انچارج علن عباسی اور ان کی ٹیم کے اہلکار تھے جنہوں نے ان کے شوہر کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔راحیلہ ملاح نے الزام عائد کیا کہ شوہر کو لے جانے کے دوران مزاحمت کرنے پر انہیں دھکے دیے گئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے جبکہ ان کا پرس بھی چھین لیا گیا جس میں ایک لاکھ 45 ہزار روپے نقد اور 92 ہزار روپے مالیت کا موبائل فون موجود تھا۔متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کو لے جانے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں جس کے باعث وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے شوہر کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے یا پولیس مقابلے کا دعوی کرکے انہیں ہاف فرائی کیا جا سکتا ہے۔راحیلہ ملاح نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ان کے شوہر کو بازیاب کرایا جائے جبکہ سی آئی اے پولیس کے انچارج اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف شفاف تحقیقات کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
