اگست 18, 2026

ریاست کے استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، دہشت گردی کے خلاف ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے: وزیراعلیٰ بلوچستان

0
Chief Minister Mir Sarfraz Bugti addressing the ATF Passing Out Parade at Anti-Terrorist Force Training School in Quetta.

کوئٹہ، 31 جولائی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے استحکام کے لیے بہادر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی اور دہشت گردی کے خلاف ریاست ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کو کوئٹہ میں اینٹی ٹیررسٹ فورس (ATF) ٹریننگ اسکول میں 20ویں ٹریننگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب سے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان اور کمانڈنٹ اے ٹی ایف اسد خان نے بھی خطاب کیا، جبکہ اے ٹی ایف کے جوانوں نے انسداد دہشت گردی کی پیشہ ورانہ تربیت، جنگی مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تاکہ عوام میں انتشار پھیلایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، تاہم حکومت اور سیکیورٹی ادارے ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور اسپیشل آپریشنز ونگ دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت ان اداروں کو جدید اسلحہ، جدید آلات، اعلیٰ تربیت اور تمام ضروری وسائل فراہم کر رہی ہے تاکہ دہشت گردی کا مؤثر خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے اے ٹی ایف میں شامل ہونے والی تین خواتین کانسٹیبلز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیاں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ امن، قانون کی بالادستی اور وطن کے دفاع کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں، جو پورے معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کا مقدس خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کو ترقی، تعلیم اور خوشحالی سے محروم رکھنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت، سیکیورٹی فورسز اور عوام کے اتحاد سے ان کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ دہشت گردی جیسے قومی مسئلے کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت سیاسی تقسیم نہیں بلکہ قومی اتحاد اور ریاستی استحکام کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک بے مقصد جنگ میں دھکیلا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں بدامنی، پسماندگی، تعلیم اور ترقی کے مواقع سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ریاست ان کی بحالی، تعلیم، روزگار اور سماجی انضمام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بندوق کے زور پر نظریات مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت، بلوچستان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی، تشدد اور بربریت کے سامنے کبھی سرنڈر نہیں کریں گے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور اسپیشل آپریشنز ونگ کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے شہداء کے خاندانوں کی مزید مالی معاونت اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری حکومت بلوچستان کی جانب سے اٹھانے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ، ٹرینرز کی بنیادی تنخواہوں میں اضافے اور فیڈنگ چارجز پر نظرثانی کا بھی اعلان کیا۔

آخر میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے پاسنگ آؤٹ کرنے والے جوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت، ایمانداری اور بہادری کے ساتھ عوام، صوبے اور قومی پرچم کے دفاع کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے ملک میں امن کے قیام کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے