نومبر 8, 2026

الیکٹرک گاڑیوں کے خریداروں کے لیے بڑی خوشخبری

0
electirct-car

وفاقی حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور عوام کو سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے نئی آٹو پالیسی کے تحت اہم اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد بڑھانے، ٹیکس میں رعایت اور مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ عوام کو سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو معیاری گاڑیاں مناسب قیمت پر دستیاب ہوں اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار کم کیا جا سکے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے تحفظ پر مبنی پالیسیاں رائج رہی ہیں، تاہم اب توجہ عام شہری کو سہولت دینے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بائیکس خواتین سمیت شہریوں کے لیے سفر کا ایک آسان اور کم خرچ ذریعہ بن رہی ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت ہارون اختر نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ پہلے گاڑی کی فنانسنگ کے لیے 30 لاکھ روپے کی حد مقرر تھی، جسے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ادائیگی کی مدت بھی تین سال سے بڑھا کر تین سے پانچ سال تک کرنے کا منصوبہ ہے۔

ہارون اختر کے مطابق 50 ہزار ڈالر تک کی گاڑیوں کو بھی ڈیوٹی میں رعایت دی جائے گی، جبکہ ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب پر بھی کام جاری ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کے حوالے سے تین، چھ اور نو فیصد کی مختلف کیٹیگریز متعارف کرانے کی بات بھی کی گئی ہے۔

مشیر صنعت و تجارت نے مزید کہا کہ نئی آٹو پالیسی میں لگژری گاڑیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور مقامی سطح پر گاڑیوں و پرزہ جات کی تیاری کو فروغ دینا بنیادی اہداف میں شامل ہیں۔ پالیسی کے تحت برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی اہداف مقرر کیے جائیں گے، جبکہ پہلے سال پانچ فیصد ریوارڈ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی آٹو پارٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات کے نئے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ملک میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی خوش آئند قرار دیا گیا۔

تاہم ہارون اختر کے مطابق نئی آٹو پالیسی پر عمل درآمد سے قبل عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منظوری حاصل کرنا باقی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے