بلوچستان میں بلوچ اور پشتون قوم کے لوگ سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان
ڈیرہ بگٹی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے آبائی علاقے شمالی ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عوامی کچہری کا انعقاد کیا اور قبائلی عمائدین سمیت شہریوں سے گھل مل گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان چھ گھنٹے سے زائد وقت تک عوامی کچہری میں موجود رہے، جہاں انہوں نے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دورے کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بطور چیف آف بگٹی اپنے قبیلے کے متعدد قبائلی فیصلے بھی کیے۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائلی نظام میں باہمی اتفاق، بھائی چارے اور افہام و تفہیم سے کیے جانے والے فیصلے بلوچستان کی روایات کا اہم حصہ ہیں، جن کے ذریعے باہمی تنازعات اور دشمنیوں کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ اور پشتون قوم کے لوگ سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و استحکام کے لیے سکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ صوبے کا ہر محب وطن شہری ریاست کے ساتھ کھڑا ہے اور فتنہ الہندوستان کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام حکومت بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ حکومت صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف سرکاری محکموں میں ہزاروں نوجوانوں کو بھرتی کرکے روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت بلوچستان میں میرٹ کے نظام کو یقینی بنانے کے لیے صرف اعلانات تک محدود نہیں بلکہ اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے کے ہر نوجوان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ کاوشیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران شعبہ صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس کے نتائج کو ملکی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے دورۂ شمالی ڈیرہ بگٹی کے دوران عوامی کچہری، قبائلی عمائدین سے ملاقاتوں اور قبائلی تنازعات کے حل کے لیے کیے گئے فیصلوں کو اہمیت حاصل رہی، جبکہ خطاب میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں، نوجوانوں کے روزگار اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں حکومتی اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
