بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مختلف ممالک کے دوروں کے دوران ملنے والے عالمی اعزازات ایک نئی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں ان اعزازات کی نوعیت اور ان کے پس منظر پر کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مودی کو حالیہ برسوں میں متعدد غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا، تاہم ان میں سے بعض اعزازات ایسے ہیں جو مبینہ طور پر صرف انہی کے لیے تخلیق کیے گئے۔ دی گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ سیشلز کی جانب سے دیا جانے والا “گارڈین آف دی بلیو ہورائزن” اعزاز مودی کے دورے سے صرف تین روز قبل متعارف کرایا گیا تھا، اور اب تک اس کے واحد وصول کنندہ بھی نریندر مودی ہی ہیں۔

اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ اس اعزاز کے سرٹیفکیٹ میں “Republic of Seychelles” کے املا میں بھی غلطی موجود تھی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ ممکنہ طور پر اس دستاویز کی تیاری میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کیا گیا ہو۔

دی گارڈین کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی کے دیگر غیر ملکی دوروں کے دوران بھی ایسے اعزازات دیے گئے جو کسی اور شخصیت کو کبھی نہیں ملے۔ رپورٹ کے مطابق مودی کے اسرائیل کے دورے سے قبل “میڈل آف نیسٹ” کے نام سے ایک اعزاز متعارف کرایا گیا، اور اس کے پہلے اور اب تک کے واحد وصول کنندہ بھی بھارتی وزیراعظم ہی ہیں۔

دوسری جانب بھارتی اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی حکومت ان بین الاقوامی اعزازات کو ملک کے اندر سیاسی تشہیر اور عوامی تاثر بہتر بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے اعزازات کو داخلی سیاست میں کامیابی کے بیانیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ان دعوؤں پر بھارتی حکومت کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دی گارڈین کی رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *