اوکاڑہ، 4 جولائی 2026: پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایک اہم کارروائی کے دوران مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے وابستہ ایک سہولتکار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے دھماکا خیز مواد سمیت دیگر اہم اشیاء بھی برآمد کی گئی ہیں۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق کارروائی ستھگرہ موڑ کے قریب خفیہ اطلاع پر کی گئی، جہاں سے ملزم علی خان کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم کا تعلق پشاور سے بتایا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے بارودی مواد، ڈیٹونیٹر، تین بیٹریاں، دو موبائل فون، پاکستانی اور بھارتی کرنسی برآمد ہوئی ہے۔ سی ٹی ڈی نے ملزم کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس کے ممکنہ روابط اور سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
کراچی میں پہلے بھی دہشت گردی کے خلاف بڑی کارروائی
یاد رہے کہ اس سے قبل 12 اپریل 2026 کو کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں رینجرز اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک مطلوب دہشت گرد نور عالم عرف وفادار کو گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم 2014 میں ایک شدت پسند گروہ میں شامل ہوا تھا اور جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ وہ 2021 میں لیویز چیک پوسٹ مکین پر ہونے والے حملے میں بھی مبینہ طور پر شامل تھا، جس میں اس کے دو ساتھی مارے گئے جبکہ چھ اہلکار اغوا کیے گئے تھے۔
حکام کے مطابق ملزم دیسی ساختہ بم (IED) نصب کرنے اور مختلف دھماکوں میں بھی ملوث رہا۔ کارروائیوں کے بعد وہ افغانستان فرار ہو گیا تھا، جہاں سے مبینہ طور پر دہشت گردی کے نیٹ ورک سے رابطے برقرار رکھے ہوئے تھا۔
مزید تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم ایک مبینہ کمانڈر بلال عرف طوفان کی ہدایات پر سرگرم رہا اور بعد ازاں کراچی میں روپوش ہو کر نیٹ ورک کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
نوٹ: مذکورہ معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جاری کردہ بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
